حدیث نمبر: 4443
نَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، نَا أَبُو قَطَنٍ ، نَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ : أَشْرَفَ عُثْمَانُ مِنَ الْقَصْرِ وَهُوَ مَحْصُورٌ ، فَقَالَ : " أَنْشُدُ بِاللَّهِ تَعَالَى مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ حِرَاءٍ إِذِ اهْتَزَّ الْجَبَلُ فَرَكَلَهُ بِقَدَمِهِ ، وَقَالَ : اسْكُنْ حِرَاءُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلا نَبِيُّ ، أَوْ صِدِّيقٌ ، أَوْ شَهِيدٌ ، وَأَنَا مَعَهُ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ، قَالَ : أَنْشَدْتُ اللَّهَ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ بَيْعَةِ الرِّضْوَانِ إِذْ بَعَثَنِي إِلَى الْمُشْرِكِينَ إِلَى أَهْلِهِ ، قَالَ : هَذِهِ يَدِي وَهَذِهِ يَدُ عُثْمَانَ فَبَايَعَ لِي ؟ ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ، فَقَالَ : نَشَدْتُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : مَنْ يُوَسِّعُ لَنَا هَذَا الْبَيْتَ فِي الْمَسْجِدِ بِبَيْتٍ فِي الْجَنَّةِ ؟ ، فَابْتَعْتُهُ مِنْ مَالِي فَوَسَّعْتُ بِهِ فِي الْمَسْجِدِ فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ، قَالَ : وَنَشَدْتُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ جَيْشِ الْعُسْرَةِ ، وَقَالَ : مَنْ يُنْفِقُ الْيَوْمَ نَفَقَةً مُتَقَبَّلَةً ، فَجَهَّزْتُ نِصْفَ الْجَيْشِ مِنْ مَالِي ، فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ ، قَالَ : وَنَشَدْتُ بِاللَّهِ مَنْ شَهِدَ بِئْرَ رُومَةَ يُبَاعُ مَاؤُهَا لابْنِ السَّبِيلِ فَابْتَعْتُهَا مِنْ مَالِي فَأَبَحْتُهَا ابْنَ السَّبِيلِ ، قَالَ : فَانْتَشَدَ لَهُ رِجَالٌ " ، .
محمد محی الدین

ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اپنے گھر میں سے جھانک کر باہر دیکھا، وہ اس وقت محصور تھے اور بولے: ”میں اللہ کے نام کی قسم دے کر تم لوگوں سے یہ پوچھتا ہوں کہ کون شخص اس وقت وہاں موجود تھا؟ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حرا پہاڑ پر موجود تھے اور وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پاؤں کے ذریعے اسے مارا اور فرمایا: ’اے حرا! ساکن رہو، تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور ایک شہید موجود ہے۔‘ اس وقت میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھا۔“ تو کچھ لوگوں نے اس بات کی گواہی دی (کہ یہ بات ٹھیک ہے)۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”جو شخص اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ نے بیعت رضوان کی تھی، اس کو میں اللہ کے نام کا واسطہ دے کر یہ پوچھتا ہوں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے مشرکین کی طرف بھیجا تھا، تو آپ نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ’یہ میرا ہاتھ ہے اور یہ عثمان کا ہاتھ ہے۔‘ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف سے بیعت لی تھی۔“ کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی، پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ کا واسطہ دے کر دریافت کرتا ہوں، جو اس وقت موجود تھا کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی تھی: ’کون شخص اس گھر کو خرید کر اسے مسجد میں شامل کر دے گا، اس کے عوض میں اسے جنت میں گھر ملے گا۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اس گھر کو خرید کر اس کے ذریعے اس مسجد میں توسیع کروا دی۔“ تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھا، جب آپ غزوہ تبوک کے لیے تیاری کر رہے تھے، آپ نے ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص آج کے دن ایسا خرچ کرے گا، جو قبول ہو گا؟‘ تو میں نے نصف لشکر کو اپنے مال میں سے ساز و سامان فراہم کیا تھا۔“ کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں اس شخص کو اللہ کے نام کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، جو اس وقت موجود تھا، جب رومہ کا پانی صرف مسافروں کو فروخت کیا جاتا تھا، تو میں نے اپنے مال میں سے اس کو خرید کر اسے مسافروں کے لیے (اور تمام مسلمانوں کے لیے) وقف کر دیا تھا۔“ تو کچھ لوگوں نے ان کی اس بات کی بھی تصدیق کی۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4443
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2778، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2491، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 6916، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1534، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3699، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12052، 12053، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4442، 4443، 4444، 4445، 4446، 4447، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 427»