حدیث نمبر: 4437
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا شُجَاعُ بْنُ مَخْلَدٍ . ح وَنا الْقَاضِي الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ السَّكَنِ ، قَالا : نَا سَعِيدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ الْحَجَّاجِ ، عَنْ سَعِيدٍ الْجُرَيْرِيِّ ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ حَزْنٍ الْقُشَيْرِيِّ ، قَالَ : شَهِدْتُ الدَّارَ حِينَ أَشْرَفَ عَلَيْهِمْ عُثْمَانُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَقَالَ : " أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِئْرِ رُومَةَ ، فَقَالَ : مَنْ يَشْتَرِي بِئْرَ رُومَةَ فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ فِيهَا مَعَ دِلاءِ الْمُسْلِمِينَ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَجَعَلْتُ دَلْوِي فِيهَا مَعَ دِلاءِ الْمُسْلِمِينَ ، فَإِنَّهُمُ الْيَوْمَ يَمْنَعُونِي أَنْ أَشْرَبَ مِنْهَا ، حَتَّى أَشْرَبَ مِنْ مَاءِ الْبَحْرِ ، قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلامِ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنِّي جَهَّزْتُ جَيْشَ الْعُسْرَةِ مِنْ صُلْبِ مَالِي ؟ ، قَالَ : قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : أَنْشُدُكُمُ اللَّهَ وَالإِسْلامَ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ الْمَسْجِدَ ضَاقَ بِأَهْلِهِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : مَنْ يَشْتَرِي بُقْعَةَ آلِ فُلانٍ فَيَزِيدُهَا فِي الْمَسْجِدِ بِخَيْرٍ لَهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ ، فَاشْتَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي فَزِدْتُهَا فِي الْمَسْجِدِ ، وَأَنْتُمُ الْيَوْمَ تَمْنَعُونِي أَنْ أُصَلِّيَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ ، قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، فَقَالَ : أَنْشُدُكُمْ بِاللَّهِ وَالإِسْلامِ ، هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، كَانَ عَلَى ثَبِيرِ مَكَّةَ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ ، وَعُمَرُ وَأَنَا ، فَتَحَرَّكَ الْجَبَلُ حَتَّى سَقَطَتْ حِجَارَتُهُ بِالْحَضِيضِ ، فَرَكَضَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَقَالَ : اسْكُنْ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ نَبِيُّ وَصِدِّيقٌ وَشَهِيدَانِ ؟ ، قَالُوا : اللَّهُمَّ نَعَمْ ، قَالَ : اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ، شَهِدُوا لِي وَرَبِّ الْكَعْبَةِ أَنِّي شَهِيدٌ ، ثَلاثَ مَرَّاتٍ مُتَقَارِبَانِ فِيهِ " .
محمد محی الدین

ثمامہ بن حزن قشیری بیان کرتے ہیں کہ میں اس وقت سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے گھر کے پاس موجود تھا، جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے لوگوں کی طرف جھانک کر ارشاد فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اللہ کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں، کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ منورہ تشریف لائے، تو اس وقت وہاں پر میٹھے پانی کا کنواں صرف بئر رومہ تھا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’کون شخص بئر رومہ کو خرید کر اسے مسلمانوں کے لیے وقف کر دے گا، اس کے بدلے میں اسے جنت مل جائے گی۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور تمام مسلمانوں کو اس میں برابر کا حق دار قرار دیا تھا اور آج تم لوگ مجھے اسی کنوئیں کا پانی پینے سے روک رہے ہو اور مجھے سمندر کا (یعنی کھارا) پانی پینا پڑتا ہے۔“ ان لوگوں نے جواب دیا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ میں نے اپنے ذاتی مال میں سے غزوہ تبوک کے لیے سامان فراہم کیا تھا۔“ تو لوگوں نے جواب دیا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ پھر سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کی قسم دے کر یہ دریافت کرتا ہوں کہ آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ مسجد چھوٹی ہو گئی تھی، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ارشاد فرمایا تھا: ’کون شخص فلاں لوگوں کی زمین کو خرید کر اسے مسجد میں توسیع کے لیے دے گا، اس کے بدلے میں اسے جنت مل جائے گی۔‘ تو میں نے اپنے مال میں سے اسے خریدا تھا اور اس کے ذریعے مسجد میں اضافہ کروایا تھا، آج تم لوگ مجھے اسی مسجد میں دو رکعت پڑھنے سے روک رہے ہو۔“ ان لوگوں نے عرض کی: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں آپ لوگوں کو اللہ تعالیٰ اور اسلام کے نام کی قسم دے کر دریافت کرتا ہوں کہ کیا آپ لوگ یہ بات جانتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم مکہ کے پہاڑ ’ثبیر‘ پر موجود تھے، آپ کے ساتھ سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر اور میں بھی تھا، اسی دوران وہ پہاڑ حرکت کرنے لگا اور اس کے کچھ پتھر نیچے گرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پاؤں مار کر ارشاد فرمایا: ’تم اپنی جگہ پر ساکن رہو، تمہارے اوپر ایک نبی، ایک صدیق اور دو شہید موجود ہیں۔‘“ لوگوں نے کہا: اللہ جانتا ہے کہ ایسا ہی ہے۔ تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اللہ اکبر، اللہ اکبر کہا اور بولے: ”تم لوگ میرے بارے میں گواہ ہو جاؤ! رب کعبہ کی قسم! میں شہید ہوں۔“ یہ بات انہوں نے تین مرتبہ کہی۔ یہاں روایت کے الفاظ ایک دوسرے سے ملتے جلتے ہیں۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4437
تخریج حدیث «أخرجه ابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2492، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 321، 322، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3612، والنسائي فى ((الكبریٰ)) برقم: 6402، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3703، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 12055، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4437، 4438، 4439، 4440»