سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي نَهْيِ الْمُحْدِثِ عَنْ مَسِّ الْقُرْآنِ باب: : بےوضو شخص کے لیے قرآن کو چھونا منع ہے
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَخْلَدٍ ، نا الْحَسَّانِيُّ ، نا وَكِيعٌ ، نا الأَعْمَشُ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ سَلْمَانَ فَخَرَجَ فَقَضَى حَاجَتَهُ ثُمَّ جَاءَ ، فَقُلْتُ : يَا أَبَا عَبْدِ اللَّهِ ، لَوْ تَوَضَّأْتَ لَعَلَّنَا أَنْ نَسْأَلَكَ عَنْ آيَاتٍ ، فَقَالَ : إِنِّي لَسْتُ أَمَسُّهُ إِنَّمَا لا يَمَسُّهُ إِلا الْمُطَهَّرُونَ ، فَقَرَأَ عَلَيْنَا مَا يَشَاءُ " . كُلُّهُمْ ثِقَاتٌ.عبدالرحمن بن یزید بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے، وہ تشریف لے گئے، انہوں نے قضائے حاجت کی، پھر وہ تشریف لائے تو میں نے عرض کی: ”اے ابوعبداللہ! اگر آپ وضو کر لیں تو مناسب ہو گا، تاکہ ہم آپ سے کچھ آیات کے بارے میں دریافت کریں۔“ تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”میں قرآن کو چھو نہیں رہا، اسے صرف باوضو لوگ چھو سکتے ہیں۔“ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ہمارے سامنے وہ آیات تلاوت کیں جو ہم چاہتے تھے۔ اس روایت کے تمام راوی ثقہ ہیں۔