سنن الدارقطني
كتاب الأحباس— وقف کا بیان
بَابُ كَيْفَ يُكْتَبُ الْحَبْسُ باب: : کس طرح کوئی چیز وقف کی جائے گی ؟
حدیث نمبر: 4416
نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، نَا أَبُو عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، نَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أنا أَزْهَرُ بْنُ سَعْدٍ السَّمَّانُ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ بِهَذَا ، وَقَالَ : فَحَبَسَ أَصْلَهَا لا يُبَاعُ وَلا يُوهَبُ ، وَلا يُورَثُ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا عَلَى الْفُقَرَاءِ ، وَالْقُرْبَى ، وَالرِّقَابِ ، وَفِي الْمَسَاكِينِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، وَالضَّيْفِ . وَرَوَاهُ دَاوُدُ بْنُ أَبِي هِنْدَ ، عَنِ ابْنِ عَوْنٍ.محمد محی الدین
یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: تو انہوں نے اصل زمین کو اپنے پاس رہنے دیا، اس طرح کہ اسے فروخت نہ کیا جائے، اسے ہبہ نہ کیا جائے، اسے وراثت میں تقسیم نہ کیا جائے اور اس کے پھل کو غریبوں، قریبی رشتے داروں، غلاموں کے لیے، مسکینوں کے لیے، مسافروں کے لیے اور مہمانوں کے لیے صدقہ کر دیا۔