حدیث نمبر: 4403
نَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ الأَزْدِيُّ الْمَعْرُوفُ بِابْنِ ابْنَةِ كَعْبٍ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا أَيُّوبُ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ . ح وَنا مُحَمَّدُ بْنُ الْقَاسِمِ ، نَا الْهَيْثَمُ بْنُ سَهْلٍ ، نَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، نَا ابْنُ عَوْنٍ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، " إِنِّي أَصَبْتُ مَالا بِخَيْبَرَ لَمْ أُصِبْ مَالا أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْهُ ، فَقَالَ لَهُ : إِنْ شِئْتَ تَصَدَّقْتَ بِهِ وَأَمْسَكْتَ أَصْلَهُ ، قَالَ : فَتَصَدَّقَ بِهِ عُمَرُ عَلَى الْقُرْبَى ، وَالْمَسَاكِينِ ، وَابْنِ السَّبِيلِ ، لا جُنَاحَ عَلَى مَنْ وَلِيَهَا أَنْ يَأْكُلَ أَوْ يُطْعِمَ صَدِيقًا غَيْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْهُ مَالا ، أَوْ مُتَأَثِّلٍ مِنْهُ مَالا " .
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! مجھے خیبر میں ایک زمین ملی ہے، مجھے اس سے زیادہ پسندیدہ زمین کبھی نہیں ملی۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”اگر تم چاہو، تو اس کے (پھل کو) صدقہ کر دو اور اصل زمین اپنے پاس رکھو۔“ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس کے (پھل کو) اپنے قریبی رشتے داروں، غریبوں اور مسافروں کے لیے صدقہ قرار دیا تھا اور اس کی نگرانی کرنے والے شخص کو بھی کوئی گناہ نہیں ہو گا، اگر وہ خود اس میں سے کھا لیتا ہے یا اپنے کسی دوست کو کھلا دیتا ہے، بشرطیکہ وہ مال جمع کرنے والا نہ ہو۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الأحباس / حدیث: 4403
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 2313، 2737، 2764، 2772، 2773، 2777، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1633،وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 2483، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2878،والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3627 ، 3629 ، 3630 ، 3631 ، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1375، والدارمي فى ((مسنده)) برقم: 3340، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 2396، 2397، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4402، 4403، 4404، 4405، 4406، 4407، 4408، 4409، 4410، 4411، 4412، 4413، 4414، 4415، 4416، 4417، 4418، 4419، 4420، 4425، 4426، 4427، 4428، 4429، 4430، 4431، 4432، 4433، 4434، 4435، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 4698، والحميدي فى ((مسنده)) برقم: 667، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 21333»