حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ يُوسُفَ السُّلَمِيُّ ، وَالْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ هَانِئٍ ، قَالُوا : نَا أَبُو نُعَيْمٍ ، نَا شَرِيكٌ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَأَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ رَجُلا مَاتَ وَتَرَكَ مُدَبَّرًا وَدَيْنًا ، " فَأَمَرَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَبِيعُوهُ فِي دَيْنِهِ " ، فَبَاعُوهُ بِثَمَانِمِائَةٍ . قَالَ أَبُو بَكْرٍ : قَوْلُ شَرِيكٍ : إِنَّ رَجُلا مَاتَ خَطَأٌ مِنْهُ ، لأَنَّ فِي حَدِيثِ الأَعْمَشِ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ : وَدَفَعَ ثَمَنَهُ إِلَيْهِ ، وَقَالَ : اقْضِ دَيْنَكَ كَذَلِكَ رَوَاهُ عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ ، وَأَبُو الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ ، أَنَّ سَيِّدًا لِمُدَبَّرٍ كَانَ حَيًّا يَوْمَ بَيْعِ الْمُدَبَّرِ.سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ ایک شخص فوت ہو گیا، اس نے ایک مدبر غلام کو بھی چھوڑا اور کچھ قرض بھی چھوڑا، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ورثاء کو یہ حکم دیا کہ وہ اس قرض کی ادائیگی کے لیے اس مدبر غلام کو فروخت کر دیں، تو ان لوگوں نے اس غلام کو آٹھ سو (درہم) کے عوض میں فروخت کیا۔ ابوبکر نامی محدث نے یہ بات بیان کی ہے کہ روایت کے یہ الفاظ: ایک شخص فوت ہو گیا، اس میں راوی کو غلطی ہوئی ہے، کیونکہ دیگر راویوں نے یہ بات نقل کی ہے: (اس کے آقا نے خود اس غلام کو آزاد کیا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس غلام کی قیمت اس کے آقا کو ادا کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ اس کے ذریعے تم اپنا قرض ادا کر لو۔ اسی طرح دیگر راویوں نے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ جس دن اس غلام کو فروخت کیا گیا تھا، اس وقت اس کا آقا زندہ تھا۔