سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابٌ فِي النَّهْيِ لِلْجُنُبِ وَالْحَائِضِ عَنْ قِرَاءَةِ الْقُرْآنِ باب: : جنبی شخص اور حائضہ عورت کے لیے قرآن کی تلاوت کی ممانعت
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّفَّارُ ، قَالا : نا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الدَّقِيقِيُّ ، نا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نا عَامِرُ بْنُ السِّمْطِ ، نا أَبُو الْغَرِيفِ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ عَلِيٍّ فِي الرَّحَبَةِ ، فَخَرَجَ إِلَى أَقْصَى الرَّحَبَةِ ، فَوَاللَّهِ مَا أَدْرِي أَبَوْلا أَحْدَثَ أَوْ غَائِطًا ، ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِكُوزٍ مِنْ مَاءٍ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثُمَّ قَبَضَهُمَا إِلَيْهِ ، ثُمَّ قَرَأَ صَدْرًا مِنَ الْقُرْآنِ ، ثُمَّ قَالَ : " اقْرَؤُوا الْقُرْآنَ مَا لَمْ يُصِبْ أَحَدَكُمْ جَنَابَةٌ ، فَإِنْ أَصَابَتْهُ جَنَابَةٌ فَلا وَلا حَرْفًا وَاحِدًا " . هُوَ صَحِيحٌ عَنْ عَلِيٍّ.ابوظریف ہمدانی بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ کھلے میدان میں موجود تھے، سیدنا علی رضی اللہ عنہ اس میدان کے کنارے تک تشریف لے گئے۔ اللہ کی قسم! مجھے یہ پتہ نہیں ہے، انہوں نے پیشاب کیا یا پاخانہ کیا، انہوں نے پانی کا برتن منگوایا، پھر انہوں نے اپنے دونوں ہاتھوں کو دھویا اور پھر ان دونوں کو جوڑ کر قرآن کا ابتدائی حصہ تلاوت کیا اور پھر یہ فرمایا: ”تم لوگ قرآن کی تلاوت اس وقت تک کر سکتے ہو جب تک کسی شخص کو جنابت لاحق نہ ہو، اگر اسے جنابت لاحق ہو جائے تو پھر وہ اس کا ایک لفظ بھی نہیں پڑھ سکتا۔“ یہ روایت سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے مستند طور پر منقول ہے۔