حدیث نمبر: 4209
نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ أَبِي عُتْبَةَ ، أَوْ غَيْرِهِ ، عَنِ الْحَكَمِ بْنِ عُتَيْبَةَ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا ، قَالَ : " لَمَّا انْصَرَفَ الْمُشْرِكُونَ عَنْ قَتْلَى أُحُدٍ انْصَرَفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَرَأَى مَنْظَرًا أَسَاءَهُ رَأَى حَمْزَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَدْ شُقَّ بَطْنُهُ ، وَاصْطُلِمَ أَنْفُهُ ، وَجُدِعَتْ أُذُنَاهُ ، فَقَالَ : لَوْلا أَنْ يَحْزَنَ النِّسَاءُ ، أَوْ يَكُونَ سُنَّةً بَعْدِي لَتَرَكْتُهُ حَتَّى يَبْعَثَهُ اللَّهُ مِنْ بُطُونِ السِّبَاعِ وَالطَّيْرِ ، لأُمَثِّلَنَّ مَكَانَهُ بِسَبْعِينَ رَجُلا ، ثُمَّ دَعَا بِبُرْدَةٍ فَغَطَّى بِهَا وَجْهَهُ ، فَخَرَجَتْ رِجْلاهُ ، فَغَطَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجْهَهُ وَجَعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ شَيْئًا مِنَ الإِذْخِرِ ، ثُمَّ قَدَّمَهُ فَكَبَّرَ عَلَيْهِ عَشْرًا ، ثُمَّ جَعَلَ يُجَاءُ بِالرَّجُلِ فَيُوضَعُ ، وَحَمْزَةُ مَكَانَهُ حَتَّى صَلَّى عَلَيْهِ سَبْعِينَ صَلاةً ، وَكَانَ الْقَتْلَى سَبْعِينَ ، فَلَمَّا دُفِنُوا وَفُرِغَ مِنْهُمْ نزلت هَذِهِ الآيَةُ ادْعُ إِلَى سَبِيلِ رَبِّكَ بِالْحِكْمَةِ وَالْمَوْعِظَةِ الْحَسَنَةِ سورة النحل آية 125 ، إِلَى قَوْلِهِ : وَاصْبِرْ وَمَا صَبْرُكَ إِلا بِاللَّهِ سورة النحل آية 127 ، فَصَبَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَلَمْ يُمَثِّلْ بِأَحَدٍ " ، لَمْ يَرْوِهِ غَيْرُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ عَيَّاشٍ ، وَهُوَ مُضْطَرِبُ الْحَدِيثِ ، عَنِ غَيْرِ الشَّامِيِّينَ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب مشرکین غزوہ احد میں مارے جانے والوں کو چھوڑ کر واپس چلے گئے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے وہ چیز ملاحظہ فرمائی جس سے آپ کو بہت تکلیف ہوئی، آپ نے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ ان کا پیٹ چیر دیا گیا تھا، ناک کاٹ دی گئی تھی، دونوں کان الگ کر دیے گئے تھے۔ آپ نے فرمایا: ”اگر خواتین کے غمگین ہونے کا اندیشہ نہ ہوتا، یا یہ بات میرے بعد رواج نہ بن جاتی، تو میں انہیں یونہی چھوڑ دیتا، یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ درندوں اور پرندوں کے پیٹوں میں سے انہیں زندہ کرتا، میں ان کی جگہ ستر آدمیوں کا مثلہ کروں گا۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی چادر منگوائی اور اس کے ذریعے سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے چہرے کو ڈھانپ دیا تو سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کے پاؤں ظاہر ہو گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے چہرے کو ڈھانپ دیا اور ان کے پاؤں پر گھاس رکھ دی، پھر آپ نے انہیں آگے کیا اور ان پر دس تکبیریں کہیں، اس کے بعد ایک، ایک شخص کو لایا جاتا رہا اور رکھا جاتا رہا، سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ کی میت وہیں پڑی رہی، یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان پر ستر مرتبہ نماز ادا کی کیونکہ غزوہ احد کے شہداء کی تعداد ستر تھی، جب ان لوگوں کو دفن کر دیا گیا اور آپ اس سے فارغ ہو گئے تو یہ آیت نازل ہوئی: ”تم اپنے پروردگار کے راستے کی طرف حکمت اور اچھے وعظ کے ذریعے دعوت دو۔“ یہ آیت یہاں تک ہے: ”تم صبر سے کام لو، تمہارا صبر کرنا صرف اللہ تعالیٰ کی مدد سے ہی ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صبر سے کام لیا اور آپ نے کسی شخص کا مثلہ نہیں کیا۔ اس روایت کو صرف اسماعیل بن عیاش نامی راوی نے نقل کیا ہے اور اس نے شامیوں کے علاوہ دیگر راویوں سے جو روایات نقل کی ہیں، ان میں اضطراب پایا جاتا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب السير / حدیث: 4209
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 4923، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 1513، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 6907، 6909، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4204، 4209، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 6194، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 37941»
«قال الدارقطني: لم يروه غير إسماعيل بن عياش وهو مضطرب الحديث عن غير الشاميين ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (2 / 308)»