حدیث نمبر: 4206
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، نَا عُمَرُ بْنُ شَبَّةَ ، نَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، أنا أُسَامَةُ بْنُ زَيْدٍ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ ، وَزَادَ " وَجَعَلَ عَلَى رِجْلَيْهِ الإِذْخِرَ ، وَلَمْ يُصَلِّ عَلَى أَحَدٍ مِنَ الشُّهَدَاءِ غَيْرِهِ ، وَقَالَ : أَنَا شَهِيدٌ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ، وَكَانَ يَدْفِنُ الاثْنَيْنِ وَالثَّلاثَةَ فِي قَبْرٍ وَاحِدٍ " .
محمد محی الدین

یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ بھی منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ زائد ہیں: ”ان کے پاؤں پر اذخر (نامی گھاس) رکھ دی گئی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے علاوہ اور کسی شہید کی نماز جنازہ ادا نہیں کی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ’میں آج کے دن تم لوگوں کے بارے میں گواہ ہوں۔‘ ایک قبر میں دو، دو اور تین، تین شہداء کو دفن کیا گیا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب السير / حدیث: 4206
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 2608، 2609، 2610، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1355، 1356،وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3135، 3136، 3137، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1016، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 4205، 4206، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 12494،وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 11762، 11777، 37611، 37907»
«قال البخاري : حديث أسامة عن الزهري عن أنس غير محفوظ غلط فيه أسامة ، عمدة القاري شرح صحيح البخاري: (8 / 152)»