نَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْعَلاءِ الْجَوْزَجَانِيُّ ، نَا عَلِيُّ بْنُ مُسْلِمٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ ، نَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، قَالَ : " عُرِضْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أُحُدٍ ، وَأَنَا ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ فَلَمْ يُجِزْنِي وَلَمْ يَرَنِي بَلَغْتُ ، ثُمَّ عُرِضَتْ عَلَيْهِ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَأَنَا ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ فَأَجَازَنِي " ، فَأَخْبَرْتُ بِهَذَا الْخَبَرَ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ فَكَتَبَ إِلَى عُمَّالِهِ أَنْ لا تَفْرِضُوا إِلا لِمَنْ بَلَغَ خَمْسَ عَشْرَةَ ، وَكَانَ عُمَرُ لا يَفْرِضُ لأَحَدٍ إِلا مِائَةَ دِرْهَمٍ حَتَّى يَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ . قَالَ : تَابَعَهُ عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، وَهُوَ صَحِيحٌ.سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ غزوہ احد کے دن مجھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا، اس وقت میری عمر چودہ برس تھی، آپ نے مجھے شرکت کی اجازت نہیں دی، آپ نے مجھے بالغ نہیں سمجھا تھا، پھر غزوہ خندق کے موقع پر مجھے آپ کے سامنے پیش کیا گیا، میری عمر اس وقت پندرہ سال تھی، تو آپ نے مجھے شرکت کی اجازت دی۔ راوی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عمر بن عبدالعزیز کو اس بارے میں بتایا، تو انہوں نے اپنے سرکاری اہلکاروں کو خط لکھا کہ وہ تنخواہ صرف اس شخص کو ادا کریں، جو پندرہ سال کا ہو چکا ہو۔ سیدنا عمر بن عبدالعزیز کا یہ معمول تھا کہ انہوں نے پندرہ سال کے لڑکے کے لیے ایک سو درہم تنخواہ مقرر کی تھی، یہ روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے۔