حدیث نمبر: 4201
نَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُبَشِّرٍ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، أنا الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " فِيمَا أَحْرَزَ الْعَدُوُّ فَاسْتَنْقَذَهُ الْمُسْلِمُونَ مِنْهُمْ ، أَوْ أَخَذَهُ صَاحِبُهُ قَبْلَ أَنْ يُقْسَمَ فَهُوَ أَحَقُّ ، فَإِنْ وَجَدَهُ وَقَدْ قُسِمَ فَإِنْ شَاءَ أَخَذَهُ بِالثَّمَنِ " ، الْحَسَنُ بْنُ عُمَارَةَ مَتْرُوكٌ.محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”دشمن جس مال کو قبضے میں لیتا ہے اور پھر مسلمان اس سے وہ مال حاصل کر لیتے ہیں، تو تقسیم ہو جانے سے پہلے اس مال کا اصل مالک اسے لے سکتا ہے، وہ اس کا زیادہ حق دار ہو گا، لیکن اگر تقسیم ہو جانے کے بعد وہ اسے پاتا ہے، تو اگر وہ چاہے، تو اس کی قیمت کے عوض میں اسے حاصل کر سکتا ہے۔“ اس روایت کا ایک راوی حسن بن عمارہ متروک ہے۔