سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
ح وَنا ابْنُ مَنِيعٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، قَالَ : أَبْقَتْ أَمَةٌ لِبَعْضِ الْعَرَبِ فَوَقَعَتْ بِوَادِي الْقُرَى فَانْتَهَتْ إِلَى الْحَيِّ الَّذِي أَبْقَتْ مِنْهُمْ ، فَتَزَوَّجَهَا رَجُلٌ مِنْ بَنِي عُذْرَةَ ، فَنَثَرَتْ لَهُ ذَاتَ بَطْنِهَا ، ثُمَّ عَثَرَ عَلَيْهَا سَيِّدُهَا بَعْدُ فَاسْتَاقَهَا وَوَلَدَهَا ، فَقَضَى عُمَرُ لِلْعُذْرِيِّ بِغَرَرِ وَلَدِهِ الْغُرَّةُ لِكُلِّ وَصِيفٍ وَصِيفٌ ، وَلِكُلِّ وَصِيفَةٍ وَصِيفَةٌ ، وَجَعَلَ ثَمَنَ الْغُرَّةِ إِذْ لَمْ يُوجَدْ عَلَى أَهْلِ الْقُرَى سِتِّينَ دِينَارًا ، أَوْ سَبْعَمِائَةِ دِرْهَمٍ ، وَعَلَى أَهْلِ الْبَادِيَةِ سِتَّ فَرَائِضَ " .سعید بن مسیب بیان کرتے ہیں: کسی عرب کی کنیز مفرور ہو گئی، وہ وادی قریٰ پہنچ گئی، وہ اس قبیلے تک پہنچ گئی، جن سے بھاگی تھی، بنو عذرہ سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے اس کے ساتھ شادی کر لی، اس کے ہاں بہت سے بچے پیدا ہوئے، پھر اس کنیز کا آقا اس تک پہنچ گیا، اس نے اس کنیز اور اس کے بچوں کو اپنی تحویل میں لینا چاہا، تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس مقدمہ میں یہ فیصلہ دیا: عذرہ قبیلے سے تعلق رکھنے والا شخص اپنی اولاد کے عوض میں تاوان کے طور پر غلام (یا کنیز) ادا کرے، لڑکے کے بدلے میں غلام اور لڑکی کے بدلے میں کنیز ادا کرے گا، اگر یہ دستیاب نہ ہوں، شہر کے رہنے والے ایک غلام کے عوض میں 60 دینار یا 700 درہم ادا کریں گے اور دیہاتیوں پر چھ فرائض عائد ہوں گے۔