سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 4015
نَا أَبُو الْقَاسِمِ بْنُ مَنِيعٍ ، نَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنِ الزُّبَيْرِ بْنِ خُرَيْقٍ ، عَنْ عَطَاءٍ ، " فِي رَجُلٍ قَالَ لامْرَأَتِهِ : أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ ، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ الْبَتَّةَ ، أَوْ أَنْتِ طَالِقٌ طَلاقَ حَرَجٍ ، قَالَ : أَمَّا قَوْلُهُ أَنْتِ عَلَيَّ حَرَامٌ فَيَمِينٌ يُكَفِّرُهَا ، وَأَمَّا قَوْلُهُ الْبَتَّةَ ، وَطَلاقُ حَرَجٍ فَيَدِينُ فِيهِ " .محمد محی الدین
عطاء فرماتے ہیں: ”جو شخص اپنی بیوی سے یہ کہے: تم مجھ پر حرام ہو، تمہیں طلاق بتا ہے، تمہیں حرج والی طلاق ہے، جہاں تک اس کے یہ کہنے کا تعلق ہے: تم مجھ پر حرام ہو، تو یہ قسم ہے، جس کا وہ شخص کفارہ ادا کرے گا، (یہ طلاق نہیں ہے)، جہاں تک لفظ، طلاق بتا، یا طلاق حرج، استعمال کرنے کا تعلق ہے، تو اس بارے میں اس کی نیت کا اعتبار ہو گا۔“