سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
نَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا هُشَيْمٌ ، عَنْ سَيَّارٍ ، وَحُصَيْنٍ ، وَمُغِيرَةَ ، وَأَشْعَثَ ، وَدَاوُدَ ، وَمُجَالِدٍ ، وَإِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، كُلُّهُمْ عَنِ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ : دَخَلْتُ عَلَى فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ فَسَأَلْتُهَا " عَنْ قَضَاءِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَتْ : طَلَّقَهَا زَوْجُهَا الْبَتَّةَ ، فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَتْ ذَلِكَ لَهُ ، قَالَتْ : فَلَمْ يَجْعَلْ لِي سُكْنَى وَلا نَفَقَةَ ، وَقَالَ : إِنَّمَا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةُ لِمَنْ يَمْلِكُ الرَّجْعَةَ " ، خَالَفَهُ الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ جَعَلَ آخِرَ الْحَدِيثِ ، عَنْ مُجَالِدٍ وَحْدَهُ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ .شعبی بیان کرتے ہیں: میں سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوا اور ان سے، ان کے بارے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فیصلہ کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے بتایا: ان کے شوہر نے انہیں طلاق بتا دی، وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اس بات کا تذکرہ کیا، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے رہائش اور خرچ کا حق نہیں دیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”رہائش اور خرچ اس عورت کو ملتے ہیں، جس کے شوہر کو رجوع کرنے کا اختیار ہو۔“