سنن الدارقطني
كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره— طلاق اور لعان کا بیان
أَوَّلُ كِتَابِ الطَّلَاقِ وَغَيْرِهِ باب: طلاق، خلع، ایلاء، وغیرہ کے بارے میں روایات
حدیث نمبر: 3955
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ الْوَلِيدِ ، نَا أَسْبَاطُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ الأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : قَالَ عُمَرُ " لَمَّا بَلَغَهُ قَوْلُ فَاطِمَةَ بِنْتِ قَيْسٍ : لا نُجِيزُ فِي الْمُسْلِمِينَ قَوْلَ امْرَأَةٍ ، فَكَانَ يَجْعَلُ لِلْمُطَلَّقَةِ ثَلاثًا السُّكْنَى وَالنَّفَقَةَ " .محمد محی الدین
اسود بیان کرتے ہیں: جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو سیدہ فاطمہ بنت قیس رضی اللہ عنہا کے بیان کا پتہ لگا، تو انہوں نے فرمایا: ”ہم کسی عورت کے بیان کی وجہ سے مسلمانوں پر حکم عائد نہیں کریں گے۔“ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے تین طلاقیں یافتہ عورت کو رہائش اور خرچ کا حق دیا۔