حدیث نمبر: 3905
قُرِئَ عَلَى ابْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ أَبُو إِبْرَاهِيمَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ . ح وَنا ابْنُ صَاعِدٍ ، نَا أَبُو عَلِيٍّ الْقُهُسْتَانِيُّ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ التَّرْجُمَانِيُّ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيُّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ ، عَنْ نَافِعٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، أَنَّ رَجُلا أَتَى عُمَرَ ، فَقَالَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي وَهِيَ حَائِضٌ ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : إِنَّ رَجُلا قَالَ لِعُمَرَ : إِنِّي طَلَّقْتُ امْرَأَتِي الْبَتَّةَ وَهِيَ حَائِضٌ ، وَقَالا جَمِيعًا : فَقَالَ : عَصَيْتَ رَبَّكَ وَفَارَقْتَ امْرَأَتَكَ ، فَقَالَ لِلرَّجُلِ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَ ابْنَ عُمَرَ حِينَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ أَنْ يُرَاجِعَهَا " ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ لِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ حِينَ فَارَقَ امْرَأَتَهُ ، وَهِيَ حَائِضٌ فَأَمَرَهُ " أَنْ يَرْتَجِعَهَا " ، وَقَالا جَمِيعًا : فَقَالَ لَهُ عُمَرُ : إِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " أَمَرَهُ أَنْ يُرَاجِعَ امْرَأَتَهُ بِطَلاقٍ بَقِيَ لَهُ " ، وَقَالَ ابْنُ صَاعِدٍ : " أَنْ يَرْتَجِعَهَا فِي طَلاقٍ بَقِيَ لَهُ ، وَأَنْتَ لَمْ تُبْقِ مَا تَرْتَجِعُ امْرَأَتَكَ " . وَقَالَ ابْنُ مَنِيعٍ : وَإِنَّهُ لَمْ يَبْقَ لَكَ مَا تَرْتَجِعُ بِهِ امْرَأَتَكَ . قَالَ لَنَا أَبُو الْقَاسِمِ : رَوَى هَذَا وَاحِدٌ لَمْ يَذْكُرْ فِيهِ كَلامَ عُمَرَ وَلا أَعْلَمُهُ رَوَى هَذَا الْكَلامَ غَيْرُ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْجُمَحِيِّ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: ایک شخص سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: ”میں نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق دی، جب وہ حیض کی حالت میں تھی۔“ ابن صاعد نامی راوی بیان کرتے ہیں: ایک شخص نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے کہا: ”میں نے اپنی بیوی کو اس وقت طلاق بتا دی، جب وہ حیض کی حالت میں تھی۔“ اس کے بعد دونوں راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”تم نے اپنے پروردگار کی نافرمانی کی ہے اور تمہاری بیوی تم سے الگ ہو چکی ہے۔“ وہ شخص بولا: ”جب سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی سے علیحدگی اختیار کی تھی، اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے تو نہیں یہ ہدایت کی کہ وہ اپنی بیوی سے رجوع کر لے۔“ ابن صاعد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”جب عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنی بیوی سے اس کے حیض کے دوران علیحدگی اختیار کی تھی (یعنی اسے طلاق دی تھی)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے یہ فرمایا تھا کہ وہ اس عورت سے رجوع کر لیں۔“ اس کے بعد دونوں راویوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس شخص سے فرمایا: ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے (یعنی ابن عمر رضی اللہ عنہما) کو اپنی بیوی کے ساتھ رجوع کرنے کی ہدایت اس طلاق کی وجہ سے کی تھی، جو باقی رہ گئی تھی (یعنی جسے دینے کا سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو ابھی اختیار تھا)۔“ ابن صاعد نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”اس نے اس طلاق کی بنیاد پر رجوع کیا تھا، جس کا اسے حق باقی تھا، اور تم نے اس چیز کو باقی نہیں رہنے دیا، جس کی بنیاد پر تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکتے۔“ ابن منیع نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: ”تمہارے لیے وہ چیز باقی نہیں رہی، جس کی بنیاد پر تم اپنی بیوی سے رجوع کر سکو۔“ شیخ ابوالقاسم نے ہمارے سامنے یہ بات بیان کی ہے: اس روایت کو کئی راویوں نے نقل کیا ہے، لیکن انہوں نے اس میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ان الفاظ کا تذکرہ نہیں کیا، میرے علم کے مطابق سعید بن عبدالرحمن کے علاوہ اور کسی بھی راوی نے یہ کلام نقل نہیں کیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3905
تخریج حدیث «أخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4908، 5251، 5252، 5253، 5258، 5332، 5333، 7160، ومسلم فى ((صحيحه)) برقم: 1471، 1471،ومالك فى ((الموطأ)) برقم: 1139 ، وابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4263، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 3008، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 3391 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2179، 2181، 2182، 2183، 2184، 2185، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 1175، 1176، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3893، 3894، 3895، 3896، 3897، 3899، 3900، 3901، 3902، 3903، 3904، 3905، 3906، 3907، 3908، 3909، 3910، 3911، 3912، 3913، 3914، 3915، 3916، 3918، 3919، 3966، 3967، 3968، 3969، 3974، 3975، 4022، 4023، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 310، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 18027، 18028»