حدیث نمبر: 3890
نَا نَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَبِي الثَّلْجِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ حَمَّادٍ الطِّهْرَانِيُّ ، نَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنِي عَمِّي وَهْبُ بْنُ نَافِعٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عِكْرِمَةَ ، يُحَدِّثُ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، يَقُولُ : " الطَّلاقُ عَلَى أَرْبَعَةِ وُجُوهٍ ، وَجْهَانِ حَلالٌ ، وَوَجْهَانِ حَرَامٌ ، فَأَمَّا الْحَلالُ : فَأَنْ يُطَلِّقَهَا طَاهِرًا عَنْ غَيْرِ جِمَاعٍ ، وَأَنْ يُطَلِّقَهَا حَامِلا مُسْتَبِينًا ، وَأَمَّا الْحَرَامُ فَأَنْ يُطَلِّقَهَا وَهِيَ حَائِضٌ ، أَوْ يُطَلِّقَهَا حِينَ يُجَامِعَهَا ، لا تَدْرِي أَشْتَمَلَ الرَّحِمُ عَلَى وَلَدٍ أَمْ لا ؟ " .
محمد محی الدین

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: ”طلاق دینے کے چار طریقے ہیں، ان میں دو طریقے حلال ہیں اور دو حرام ہیں۔ ایک حلال طریقہ یہ ہے: آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ طہر کی حالت میں ہو (اور طہر کے دوران اس شخص نے) اس عورت کے ساتھ صحبت نہ کی ہو۔ (دوسرا طریقہ یہ ہے) آدمی حاملہ عورت کو اس وقت طلاق دے، جب اس کا حمل ظاہر ہو چکا ہو۔ (ایک) حرام طریقہ یہ ہے کہ آدمی عورت کو اس وقت طلاق دے، جب وہ حیض کی حالت میں ہو۔ (دوسرا حرام طریقہ یہ ہے) آدمی عورت کو طہر کی حالت میں اس وقت طلاق دے، جب وہ اس کے ساتھ صحبت کر چکا ہو، اسے یہ پتہ نہ چل سکے کہ رحم میں بچہ ہے یا نہیں ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الطلاق والخلع والإيلاء وغيره / حدیث: 3890
تخریج حدیث «أخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 15028، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3890، 3990، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 10930، 10950»