حدیث نمبر: 378
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى الْقَطَّانُ ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، وَثنا دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ ، نا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ الرَّازِيُّ ، نا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ ، وَحَدَّثَنَا أَبُو سَهْلٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ ، نا عَبْدُ الْكَرِيمِ بْنُ الْهَيْثَمِ ، نا أَبُو الْوَلِيدِ ، نا عِكْرِمَةُ بْنُ عَمَّارٍ ، نا شَدَّادُ أَبُو عَمَّارٍ ، وَقَدْ أَدْرَكَ نَفَرًا مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : قَالَ أَبُو أُمَامَةَ لِعَمْرِو بْنِ عَبَسَةَ : بِأَيِّ شَيْءٍ تَدَّعِي أَنَّكَ رُبُعُ الإِسْلامِ ، فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ ، قَالَ عَمْرُو بْنُ عَبَسَةَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَخْبَرَنِي عَنِ الْوُضُوءِ ، قَالَ : " مَا مِنْكُمْ مِنْ رَجُلٍ يُقَرِّبُ وُضُوءَهُ ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ وَيَنْثِرُ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا فِيهِ وَخَيَاشِيمِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ وَجْهَهُ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا وَجْهِهِ مَعَ أَطْرَافِ لِحْيَتِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ يَدَيْهِ إِلَى مِرْفَقَيْهِ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا يَدَيْهِ مِنْ أَنَامِلِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَمْسَحُ بِرَأْسِهِ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا رَأْسِهِ مِنْ أَطْرَافِ شَعْرِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَغْسِلُ قَدَمَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلا خَرَّتْ خَطَايَا رِجْلَيْهِ مِنْ أَطْرَافِ أَصَابِعِهِ مَعَ الْمَاءِ ، ثُمَّ يَقُومُ وَيَحْمَدُ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ وَيُثْنِي عَلَيْهِ بِمَا هُوَ أَهْلُهُ ، ثُمَّ يَرْكَعُ رَكْعَتَيْنِ إِلا انْصَرَفَ مِنْ ذُنُوبِهِ كَهَيْئَتِهِ يَوْمَ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ " .
محمد محی الدین

ابوعمار بیان کرتے ہیں: انہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی زیارت کا شرف حاصل ہوا ہے، وہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ سے کہا: ”آپ کس بات کے دعوے دار ہیں؟ آپ کو بہت پہلے اسلام قبول کرنے کا شرف حاصل ہوا ہے؟“ (اس کے بعد انہوں نے پورا واقعہ بیان کیا ہے)۔ سیدنا عمرو بن عبسہ رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی: ”میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! آپ مجھے وضو کے بارے میں کچھ بتائیے!“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جو بھی شخص وضو کرنے لگے تو وہ پہلے کلی کرے، پھر ناک میں پانی ڈالے اور ناک صاف کرے تو اس میں اس سے اس کے تمام گناہ، یہاں تک کہ اس کے ناک کے بانسے سے، تمام گناہ پانی سمیت باہر نکل جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنا چہرہ دھوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، تو اس کے چہرے میں سے تمام گناہ، یہاں تک کہ اس کی داڑھی کے کناروں میں سے بھی، پانی کے ہمراہ گر جاتے ہیں، پھر جب وہ دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک دھوتا ہے، تو اس کے دونوں بازوؤں میں سے، یہاں تک کہ ناخنوں میں سے بھی، تمام گناہ پانی سمیت گر جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے سر کا مسح کرتا ہے، تو اس کے بالوں کے کناروں سمیت، اس کے سر کے تمام گناہ پانی سمیت گر جاتے ہیں، پھر جب وہ اپنے دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوتا ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، تو اس کے دونوں پاؤں کی انگلیوں کے کناروں میں سے بھی تمام گناہ پانی سمیت گر جاتے ہیں، پھر وہ اٹھتا ہے اور اللہ تعالیٰ کی اس کی شان کے مطابق اس کی حمد بیان کرتا ہے، اس کی ثناء بیان کرتا ہے، پھر دو رکعت نماز ادا کرتا ہے، تو وہ اپنے گناہوں سے (اس طرح پاک) ہو جاتا ہے، جیسے اس دن تھا جب اس کی والدہ نے اسے جنم دیا تھا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 378
درجۂ حدیث محدثین: صحيح
تخریج حدیث «صحيح ، وأخرجه مسلم فى ((صحيحه)) برقم: 832، وابن خزيمة فى ((صحيحه)) برقم: 165، 260، 1147، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 453، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 147، برقم: 571، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 1277، والترمذي فى ((جامعه)) برقم: 3579، وابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 283، 1251، 1364، 2794، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 378، 379، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 17288»