سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ وَالْعَقِبَيْنِ باب: بَابُ وُجُوبِ غَسْلِ الْقَدَمَيْنِ وَالْعَقِبَيْنِ
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يُوسُفُ بْنُ مُوسَى ، نا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَالْحَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ ، وَاللَّفْظُ لأَبِي الْوَلِيدِ ، قَالا : نا هَمَّامٌ ، نا إِسْحَاقُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ يَحْيَى بْنِ خَلادٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَمِّهِ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ ، قَالَ : كَانَ رِفَاعَةُ ، وَمَالِكُ بْنُ رَافِعٍ أَخَوَيْنِ مِنْ أَهْلِ بَدْرٍ ، قَالَ : بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَوْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسٌ وَنَحْنُ حَوْلَهُ ، إِذْ دَخَلَ عَلَيْهِ رَجُلٌ فَاسْتَقْبَلَ الْقِبْلَةَ وَصَلَّى ، فَلَمَّا قَضَى الصَّلاةَ جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " ، فَجَعَلَ الرَّجُلُ يُصَلِّي وَنَحْنُ نَرْمُقُ صَلاتَهُ لا نَدْرِي مَا يَعِيبُ مِنْهَا ، فَلَمَّا صَلَّى جَاءَ فَسَلَّمَ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَلَى الْقَوْمِ ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " وَعَلَيْكَ ارْجِعْ فَصَلِّ فَإِنَّكَ لَمْ تُصَلِّ " ، قَالَ هَمَّامٌ : فَلا أَدْرِي أَمَرَهُ بِذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا ، فَقَالَ الرَّجُلُ : مَا أَلَوْتُ فَلا أَدْرِي مَا عِبْتَ عَلَيَّ مِنْ صَلاتِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّهَا لا تَتِمُّ صَلاةُ أَحَدِكُمْ حَتَّى يُسْبِغَ الْوُضُوءَ كَمَا أَمَرَهُ اللَّهُ ، فَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ، وَيَمْسَحُ بِرَأْسِهِ ، وَرِجْلَيْهِ إِلَى الْكَعْبَيْنِ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ اللَّهَ وَيُثْنِي عَلَيْهِ ، ثُمَّ يَقْرَأُ أُمَّ الْقُرْآنِ وَمَا أَذِنَ لَهُ فِيهِ وَتَيَسَّرَ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَرْكَعُ وَيَضَعُ كَفَّيْهِ عَلَى رُكْبَتَيْهِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ، وَيَقُولُ : سَمِعَ اللَّهَ لِمَنْ حَمِدَهُ ، وَيَسْتَوِي قَائِمًا حَتَّى يُقِيمَ صُلْبَهُ وَيَأْخُذَ كُلُّ عَظْمٍ مَأْخَذَهُ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْجُدُ فَيُمَكِّنُ وَجْهَهُ " ، قَالَ هَمَّامٌ : وَرُبَّمَا قَالَ : " جَبْهَتَهُ فِي الأَرْضِ حَتَّى تَطْمَئِنَّ مَفَاصِلُهُ وَتَسْتَرْخِيَ ، ثُمَّ يُكَبِّرُ فَيَسْتَوِي قَاعِدًا عَلَى مَقْعَدَتِهِ وَيُقِيمُ صُلْبَهُ " ، فَوَصَفَ الصَّلاةَ هَكَذَا أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ حَتَّى فَرَغَ ، ثُمَّ قَالَ : " لا تَتِمُّ صَلاةٌ أَحَدِكُمْ حَتَّى يَفْعَلَ ذَلِكَ " .سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات منقول ہے: سیدنا رفاعہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا مالک بن رافع رضی اللہ عنہ یہ دونوں بھائی ہیں اور غزوہ بدر میں شریک ہوئے ہیں۔ سیدنا رافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھے ہوئے تھے (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں:) ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف فرما تھے، ہم آپ کے ارد گرد موجود تھے، اسی دوران ایک شخص وہاں آیا۔ اس نے قبلے کی طرف رخ کر کے نماز ادا کی، جب اس نے نماز مکمل کر لی تو آکر اس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا اور حاضرین کو بھی سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم پر لازم ہے، تم واپس جاؤ اور جا کر نماز ادا کرو، کیونکہ تم نے درحقیقت نماز ادا نہیں کی۔“ اس شخص نے پھر نماز ادا کرنا شروع کی، ہم اس کی نماز کا غور سے جائزہ لیتے رہے، ہمیں سمجھ نہیں آئی کہ اس نے کیا غلطی کی ہے؟ جب اس نے نماز ادا کر لی تو وہ آیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور حاضرین کو سلام کیا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: ”تم پر لازم ہے، تم جاؤ اور جا کر دوبارہ نماز ادا کرو، تم نے درحقیقت نماز ادا نہیں کی۔“ ہمام نامی راوی بیان کرتے ہیں: مجھے یہ پتہ نہیں ہے، حدیث میں کیا مذکور ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دو مرتبہ اس بات کی ہدایت کی یا تین مرتبہ ہدایت کی، پھر اس شخص نے عرض کی: ”میں نے کیا کمی کی ہے؟ مجھے یہ نہیں پتہ چل سکا کہ آپ میری نماز کے کس حصے کو غلط قرار دے رہے ہیں؟“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی، جب تک وہ اچھی طرح سے اسی طرح وضو نہیں کر لیتا جیسے اللہ تعالیٰ نے اسے حکم دیا ہے، آدمی پہلے اپنے چہرے کو دھوئے، پھر دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک دھوئے، پھر اپنے سر کا مسح کرے، دونوں پاؤں ٹخنوں تک دھوئے، اللہ تعالیٰ کی کبریائی کا ذکر کرے، اس کی ثناء بیان کرے، پھر سورة فاتحہ پڑھے پھر جو اس کے نصیب میں ہوا، اسے آسان لگے (قرآن کے کچھ حصے) کی تلاوت کرے، پھر تکبیر کہے اور رکوع میں جائے، اور اپنے دونوں ہاتھ گھٹنوں پر رکھے، یہاں تک کہ اس کے جوڑ مطمئن ہو جائیں اور کشادہ رہیں، پھر وہ ’سمع اللہ لمن حمدہ‘ پڑھے اور سیدھا کھڑا ہو جائے، یہاں تک کہ اس کی پشت سیدھی ہو جائے، اور ہر ہڈی اپنی جگہ پر آ جائے، پھر وہ تکبیر کہہ کر سجدے میں چلا جائے، اور اپنی پیشانی کو جما کر رکھے۔“ ہمام نامی راوی نے یہاں بعض اوقات یہ لفظ نقل کیے ہیں: ”اپنی پیشانی زمین پر رکھے، یہاں تک کہ اس کے جوڑ اطمینان کی حالت میں آ جائیں اور کشادہ ہو جائیں، پھر وہ تکبیر کہتے ہوئے اپنی سرین کے بل بیٹھ جائے، اور اپنی پشت کو سیدھا رکھے۔“ اس کے بعد انہوں نے چاروں رکعات میں نماز کے طریقے کو اسی طرح بیان کیا، یہاں تک کہ اسے مکمل بیان کر دیا اور (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے) یہ ارشاد فرمایا: ”کسی بھی شخص کی نماز اس وقت تک مکمل نہیں ہوتی جب تک وہ ایسا نہ کرے۔“