حدیث نمبر: 305
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا شُعَيْبُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَضْرَمِيُّ ، بِمَكَّةَ ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحَضْرَمِيُّ ، نا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ ، ثنا ابْنُ الْبَيْلَمَانِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ أَنَّهُ تَوَضَّأَ بِالْمَقَاعِدِ ، وَالْمَقَاعِدُ بِالْمَدِينَةِ حَيْثُ يُصَلَّى عَلَى الْجَنَائِزِ عِنْدَ الْمَسْجِدِ ، فَغَسَلَ كَفَّيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا ، وَاسْتَنْثَرَ ثَلاثًا ، وَمَضْمَضَ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ وَجْهَهُ ثَلاثًا ، وَيَدَيْهِ إِلَى الْمِرْفَقَيْنِ ثَلاثًا ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ ثَلاثًا ، وَغَسَلَ قَدَمَيْهِ ثَلاثًا ، وَسَلَّمَ عَلَيْهِ رَجُلٌ وَهُوَ يَتَوَضَّأُ ، فَلَمْ يَرُدَّ عَلَيْهِ حَتَّى فَرَغَ ، فَلَمَّا فَرَغَ كَلَّمَهُ مُعْتَذِرًا إِلَيْهِ ، وَقَالَ : لَمْ يَمْنَعْنِي أَنْ أَرُدَّ عَلَيْكَ إِلا أَنَّنِي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " مَنْ تَوَضَّأَ هَكَذَا وَلَمْ يَتَكَلَّمْ ، ثُمَّ قَالَ : أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ ، غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَ الْوُضُوئَيْنِ " .
محمد محی الدین

سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: انہوں نے مقاعد (کھلی جگہ) میں وضو کیا، مدینہ منورہ میں مقاعد (کھلی جگہ) وہ ہے جہاں مسجد کے قریب نماز جنازہ ادا کی جاتی ہے۔ سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے پہلے اپنے دونوں ہاتھ تین، تین مرتبہ دھوئے، پھر تین مرتبہ ناک میں پانی ڈالا، پھر تین مرتبہ کلی کی، اپنے چہرے کو تین مرتبہ دھویا، پھر دونوں بازوؤں کو کہنیوں تک تین مرتبہ دھویا، پھر اپنے سر کا تین مرتبہ مسح کیا، پھر دونوں پاؤں تین مرتبہ دھوئے۔ ایک شخص نے انہیں سلام کیا، وہ ابھی وضو کر رہے تھے، سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ نے اسے سلام کا جواب نہیں دیا، یہاں تک کہ وہ وضو کر کے فارغ ہوگئے، فارغ ہوئے تو اس کے ساتھ بات چیت کرتے ہوئے اس کے سامنے عذر پیش کیا اور فرمایا: ”میں نے تمہیں اس لیے سلام کا جواب نہیں دیا، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ’جو شخص اس طرح وضو کرے اور وضو کے دوران کوئی کلام نہ کرے اور یہ (وضو کے بعد) پڑھے: ”میں اس بات کی گواہی دیتا ہوں، اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، وہی ایک معبود ہے اور اس کا کوئی شریک نہیں ہے، محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے خاص بندے اور خاص رسول ہیں“ تو اس شخص کے دو مرتبہ وضو کرنے کے درمیان کیے جانے والے گناہ بخش دیے جاتے ہیں۔‘“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 305
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه الدارقطني فى ((سننه)) برقم: 305، 307، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 87»
«قال ابن حجر: وابن البيلماني ضعيف جدا وأبوه ضعيف أيضا ، التلخيص الحبير فى تخريج أحاديث الرافعي الكبير: 144/1»