سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْجَعَالَةِ باب: جعالہ سے متعلق احکامات کا بیان
ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى بْنِ عَلِيٍّ الْخَوَّاصُ ، نَا أَحْمَدُ بْنُ الْهَيْثَمِ بْنِ خَالِدٍ الْعَسْكَرِيُّ ، نَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ حَسَّانَ ، نَا سَعِيدُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، قَالَ : سَمِعْتُ مَكْحُولا ، يَقُولُ : نَا نَافِعُ بْنُ مَحْمُودِ بْنِ الرَّبِيعِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ عُبَادَةَ بْنَ الصَّامِتِ ، يَقُولُ : " نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُفَرَّقَ بَيْنَ الأُمِّ وَوَلَدِهَا ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِلَى مَتَى ؟ ، قَالَ : حَتَّى يَبْلُغَ الْغُلامُ وَتَحِيضَ الْجَارِيَةُ " ، عَبْدُ اللَّهِ هَذَا هُوَ الْوَاقِعِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفُ الْحَدِيثِ ، رَمَاهُ عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ بِالْكَذِبِ ، وَلَمْ يَرْوِهِ عَنْ سَعِيدٍ غَيْرُهُ.سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس بات سے منع کیا ہے کہ (غلاموں یا کنیزوں کو فروخت کرتے ہوئے) ماں اور اس کی اولاد کے درمیان علیحدگی ڈال دی جائے، عرض کی گئی: ”یا رسول اللہ! یہ حکم کب تک ہے؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تک لڑکا بالغ نہیں ہو جاتا اور لڑکی کو حیض نہیں آتا۔“ عبداللہ نامی راوی، واقعی، ہیں اور یہ ضعیف ہیں، علی بن مدینی نے ان پر جھوٹا ہونے کا الزام عائد کیا ہے، سعید بن عبدالعزیز کے حوالے سے ان کے علاوہ کسی دوسرے نے روایات نقل نہیں کی ہیں۔