سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ثنا ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَتْ مَعَهَا أُمُّ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ الأَنْصَارِيِّ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى ، فَقَالَتْ أُمُّ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، " إِنِّي بِعْتُ غُلامًا مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ نَسِيئَةً ، وَإِنِّي ابْتَعْتُهُ بِسِتِّمِائَةِ دِرْهَمٍ نَقْدًا ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : بِئْسَمَا اشْتَرَيْتِ وَبِئْسَمَا شَرَيْتِ ، إِنَّ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَطَلَ ، إِلا أَنْ يَتُوبَ " .شیخ ابواسحاق سبیعی اپنی اہلیہ کا بیان نقل کرتے ہیں: وہ خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ سیدنا زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، اور ایک دوسری خاتون بھی تھیں، سیدنا زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ کی ام ولد نے عرض کی: ”اے ام المؤمنین! میں نے ایک غلام سیدنا زید بن ارقم سے آٹھ سو درہم ادھار کے عوض میں خریدا، پھر میں نے چھ سو درہم نقد کے عوض میں اسے حاصل کر لیا۔“ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”تم نے بہت برا سودا کیا ہے، ان کا (یعنی سیدنا زید بن ارقم کا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا جہاد باطل ہو گیا ہے، یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں (تو حکم مختلف ہو گا)۔“