حدیث نمبر: 3003
ثنا ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْبَزَّارِ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، نَا دَاوُدُ بْنُ الزِّبْرِقَانِ ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيِّ ، عَنِ امْرَأَتِهِ ، أَنَّهَا دَخَلَتْ عَلَى عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا فَدَخَلَتْ مَعَهَا أُمُّ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ الأَنْصَارِيِّ وَامْرَأَةٌ أُخْرَى ، فَقَالَتْ أُمُّ وَلَدِ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ : يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِينَ ، " إِنِّي بِعْتُ غُلامًا مِنْ زَيْدِ بْنِ أَرْقَمَ بِثَمَانِمِائَةِ دِرْهَمٍ نَسِيئَةً ، وَإِنِّي ابْتَعْتُهُ بِسِتِّمِائَةِ دِرْهَمٍ نَقْدًا ، فَقَالَتْ لَهَا عَائِشَةُ : بِئْسَمَا اشْتَرَيْتِ وَبِئْسَمَا شَرَيْتِ ، إِنَّ جِهَادَهُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ بَطَلَ ، إِلا أَنْ يَتُوبَ " .
محمد محی الدین

شیخ ابواسحاق سبیعی اپنی اہلیہ کا بیان نقل کرتے ہیں: وہ خاتون سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں حاضر ہوئیں، ان کے ساتھ سیدنا زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ کی ام ولد تھیں، اور ایک دوسری خاتون بھی تھیں، سیدنا زید بن ارقم انصاری رضی اللہ عنہ کی ام ولد نے عرض کی: ”اے ام المؤمنین! میں نے ایک غلام سیدنا زید بن ارقم سے آٹھ سو درہم ادھار کے عوض میں خریدا، پھر میں نے چھ سو درہم نقد کے عوض میں اسے حاصل کر لیا۔“ تو سیدہ عائشہ نے فرمایا: ”تم نے بہت برا سودا کیا ہے، ان کا (یعنی سیدنا زید بن ارقم کا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا ہوا جہاد باطل ہو گیا ہے، یہاں تک کہ وہ توبہ کر لیں (تو حکم مختلف ہو گا)۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 3003
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 10908، 10909، 10910، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 3002، بدون ترقيم، 3003، وعبد الرزاق فى ((مصنفه)) برقم: 14812، 14813»
«قال ابن عبدالبر: حديث يدور على امرأة مجهولة وليس عند أهل الحديث بحجة ، التمهيد لما في الموطأ من المعاني والأسانيد: (18 / 19)»