حدیث نمبر: 2984
ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ مُعَاوِيَةَ السَّكُونِيُّ ، نَا الرَّبِيعُ بْنُ رَوْحٍ ، نَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ عَجْلانَ ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ الْهَمْدَانِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ ، عَنْ عَلِيٍّ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " إِذَا أُتِيَ بِالْجِنَازَةِ لَمْ يَسْئَلْ عَنْ شَيْءٍ مِنْ عَمَلِ الرَّجُلِ وَيَسْأَلُ عَنْ دَيْنِهِ ، فَإِنْ قِيلَ : عَلَيْهِ دَيْنٌ كَفَّ عَنِ الصَّلاةِ عَلَيْهِ ، وَإِنْ قِيلَ : لَيْسَ عَلَيْهِ دَيْنٌ صَلَّى عَلَيْهِ ، فَأُتِيَ بِجِنَازَةٍ فَلَمَّا قَامَ لِيُكَبِّرَ سَأَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَصْحَابَهُ : هَلْ عَلَى صَاحِبِكُمْ دَيْنٌ ؟ ، قَالُوا : دِينَارَانِ ، فَعَدَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهُ ، وَقَالَ : صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ ، فَقَالَ عَلِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ : هُمَا عَلَيَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، بَرِئَ مِنْهُمَا ، فَتَقَدَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَصَلَّى عَلَيْهِ ، ثُمَّ قَالَ لِعَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ : جَزَاكَ اللَّهُ خَيْرًا ، فَكَّ اللَّهُ رِهَانَكَ كَمَا فَكَكْتَ رِهَانَ أَخِيكَ ، إِنَّهُ لَيْسَ مِنْ مَيِّتٍ يَمُوتُ وَعَلَيْهِ دَيْنٌ إِلا وَهُوَ مُرْتَهَنٌ بِدَيْنِهِ ، وَمَنْ فَكَّ رِهَانَ مَيِّتٍ فَكَّ اللَّهُ رِهَانَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَقَالَ بَعْضُهُمْ : هَذَا لِعَلِيٍّ عَلَيْهِ السَّلامُ خَاصَّةً أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً ؟ ، فَقَالَ : بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً " .
محمد محی الدین

سیدنا علی رضی اللہ عنہ ارشاد فرماتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں کوئی جنازہ لایا جاتا، تو آپ اس کے اعمال کے بارے میں سوال نہیں کرتے تھے، صرف آپ اس کے قرض کے بارے میں سوال کرتے تھے، اگر یہ بتایا جاتا کہ اس کے ذمے کوئی قرض لازم ہے، تو آپ اس کی نماز جنازہ ادا نہیں کرتے تھے اور اگر بتایا جاتا کہ اس کے ذمے کوئی قرض لازم نہیں ہے، تو آپ اس کی نماز جنازہ ادا کر لیتے تھے، ایک مرتبہ جنازہ لایا گیا، جب آپ اس کی نماز جنازہ ادا کرنے کے لیے کھڑے ہوئے، تو آپ نے اپنے اصحاب سے دریافت کیا: ”کیا تمہارے ساتھی کے ذمے کوئی قرض ہے؟“ لوگوں نے عرض کی: ”دو دینار ہیں۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے مڑ گئے، آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم اپنے ساتھی کی نماز جنازہ ادا کر لو۔“ تو سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! ان دونوں کی ادائیگی میرے ذمے ہے، یہ شخص ان دونوں سے بری ہے۔“ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آگے بڑھے، آپ نے اس شخص کی نماز جنازہ ادا کی، پھر آپ نے سیدنا علی بن ابوطالب سے ارشاد فرمایا: ”اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر عطا کرے اور تمہیں پریشانی سے اسی طرح نجات عطا کرے، جس طرح تم نے اپنے بھائی کی پریشانی کو ختم کیا ہے، جو بھی شخص فوت ہو جاتا ہے اور اس کے ذمے قرض ہوتا ہے، تو وہ اس قرض کے عوض میں گروی رکھا جاتا ہے اور جو شخص کسی میت کے قرض کی پریشانی کو ختم کرتا ہے، تو اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس شخص کی پریشانی کو ختم کرے گا۔“ تو کسی صاحب نے عرض کی: ”یہ بطور خاص سیدنا علی کے لیے حکم ہے یا تمام مسلمانوں کے لیے؟“ آپ نے فرمایا: ”بلکہ یہ تمام مسلمانوں کے لیے ہے۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2984
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11517، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2984»
«قال ابن الملقن: بإسناد ضعيف فيه عطاء بن عجلان وهو ضعيف ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 711)»