سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2980
قُرِئَ عَلَى أَبِي الْقَاسِمِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ بْنِ مَنِيعٍ ، وَأَنَا أَسْمَعُ ، حَدَّثَكُمْ عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، نَا مُسْلِمُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ : سَمِعْتُ عَلِيَّ بْنَ مُحَمَّدٍ ، يَذْكُرُهُ عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " حِينَ أَمَرَ بِإِخْرَاجِ بَنِي النَّضِيرِ مِنَ الْمَدِينَةِ جَاءَهُ أُنَاسٌ مِنْهُمْ ، فَقَالُوا : إِنَّ لَنَا دُيُونًا لَمْ تُحَلَّ ، فَقَالَ : ضَعُوا وَتَعَجَّلُوا " ، .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بنو نضیر کو مدینہ سے نکلنے کا حکم دیا، تو ان کے کچھ افراد آپ کی خدمت میں حاضر ہوئے، انہوں نے کہا: ہمارے کچھ فرض ہیں، جو ابھی واپس نہیں ملے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم انہیں چھوڑ دو اور جلدی سے یہاں سے نکل جاؤ۔“