سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
ثنا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، نَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، نَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ طَاوُسٍ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، وَابْنِ عَبَّاسٍ رَفَعَاهُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " لا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهَبَ هِبَةً ثُمَّ يَرْجِعُ فِيهَا إِلا فِيمَا يُعْطِي الْوَالِدُ وَلَدَهُ ، وَمَثَلُ الَّذِي يَرْجِعُ فِي هِبَتِهِ ، أَوْ قَالَ : فِي عَطِيَّتِهِ كَمَثَلِ الْكَلْبِ يَقِيءُ ثُمَّ يَعُودُ فِي قَيْئِهِ " ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ مِنَ الثِّقَاتِ تَابَعَهُ إِسْحَاقُ الأَزْرَقُ وَعَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ عَنْ حُسَيْنٍ ، وَرَوَاهُ عَامِرٌ الأَحْوَلُ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ، جَدِّهِ.سیدنا عبداللہ بن عمر اور سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما دونوں مرفوع حدیث کے طور پر یہ بات نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کسی بھی مسلمان کے لیے یہ بات جائز نہیں ہے کہ وہ کوئی چیز ہبہ کرنے کے بعد اسے واپس لے، البتہ وہ اپنی اولاد کو جو دیتا ہے (اسے واپس لے سکتا ہے)، اپنے ہبہ کو واپس لینے والے شخص کی مثال (راوی کے شک ہے یا شاید یہ الفاظ ہیں) اپنے عطیے کو واپس لینے والے شخص کی مثال اس کتے کی مانند ہے، جو قے کرنے کے بعد اپنی ہی قے کو دوبارہ چاٹ لیتا ہے۔“