سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2956
ثنا الْحَسَنُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ عَبْدِ الْمَجِيدِ الْمُقْرِئُ ، نَا عَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نَا الْحَسَنُ بْنُ بِشْرٍ ، نَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، نَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ رُفَيْعٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ ، عَنْ أُمَيَّةَ بْنِ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ : " اسْتَعَارَ مِنِّي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَدْرَاعًا مِنْ حَدِيدٍ ، فَقُلْتُ : مَضْمُونَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ ، قَالَ : مَضْمُونَةٌ ، فَضَاعَ بَعْضُهَا ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : إِنْ شِئْتَ غَرِمْتُهَا ، قَالَ : لا ، أَلا إِنَّ فِي قَلْبِي مِنَ الإِسْلامِ غَيْرَ مَا كَانَ يَوْمَئِذٍ " ، .محمد محی الدین
امیہ بن صفوان بیان کرتے ہیں کہ ان کے والد نے یہ بات بیان کی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے لوہے کی کچھ زرہیں ادھار لیں، تو میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ ضمانت والی ہیں؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ ضمانت والی ہیں۔“ ان میں سے بعض ضائع ہو گئیں، تو نبی نے ان سے فرمایا: ”تم چاہو تو میں تمہیں اس کا تاوان دے دیتا ہوں۔“ انہوں نے عرض کی: ”نہیں، اب میرے دل میں اسلام آ چکا ہے اور یہ دل ہر چیز سے زیادہ (سما چکا ہے)۔“