سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ أَوْ عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ ؟ ، قَالَ : " بَلْ مُؤَدَّاةٌ " .محمد محی الدین
ایک اور سند کے ہمراہ بھی یہی روایت منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں، جن کا تاوان ادا کیا جائے گا؟ یا یہ اس طرح عارضی طور پر لے رہے ہیں کہ انہیں واپس کر دیا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں، انہیں واپس کر دیا جائے گا۔“