حدیث نمبر: 2954
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ مِرْدَاسٍ ، نَا أَبُو دَاوُدَ ، نَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُسْتَمِرِّ ، نَا حَبَّانُ بْنُ هِلالٍ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ ، وَقَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَعَارِيَةٌ مَضْمُونَةٌ أَوْ عَارِيَةٌ مُؤَدَّاةٌ ؟ ، قَالَ : " بَلْ مُؤَدَّاةٌ " .
محمد محی الدین

ایک اور سند کے ہمراہ بھی یہی روایت منقول ہے، اس میں یہ الفاظ ہیں کہ میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! کیا یہ عارضی طور پر لے رہے ہیں، جن کا تاوان ادا کیا جائے گا؟ یا یہ اس طرح عارضی طور پر لے رہے ہیں کہ انہیں واپس کر دیا جائے گا؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، نہیں، انہیں واپس کر دیا جائے گا۔“

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2954
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن
تخریج حدیث «إسناده حسن ، وأخرجه ابن حبان فى ((صحيحه)) برقم: 4720، والنسائی فى ((الكبریٰ)) برقم: 5744، 5745، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 3566، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2953، 2954، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 18233»
«قال ابن حزم: إنه حديث حسن ليس في شيء مما روي في العارية خبر يصح غيره ، البدر المنير في تخريج الأحاديث والآثار الواقعة في الشرح الكبير: (6 / 748)»