سنن الدارقطني
كتاب البيوع— خرید و فروخت کے مسائل و احکام
بَابُ الْعَارِيَّةِ باب: عاریہ (عارضی طور پر کسی چیز کو مستعار لینے یا دینے) کا بیان
حدیث نمبر: 2952
ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ يَحْيَى الْعَطَّارُ ، نَا أَبُو إِبْرَاهِيمَ الزُّهْرِيُّ ، نَا مُسْلِمٌ الْجُهَنِيُّ ، ثنا حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، قَالَ : اسْتَعَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ سِلاحًا ، فَقَالَ صَفْوَانُ : " أَمُؤَدَّاةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ؟ ، قَالَ : نَعَمْ " .محمد محی الدین
عمرو بن شعیب اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صفوان بن امیہ سے کچھ اسلحہ ادھار لیا، تو صفوان نے عرض کی: ”کیا یہ واپس کر دیا جائے گا، یا رسول اللہ؟“ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جی ہاں۔“