حدیث نمبر: 2884
وَأَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، نَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَّادٍ الْمَكِّيُّ ، نَا حَاتِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نَا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ الْحَسَنِ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ حَارِثَةَ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ يَثْرِبِيٍّ ، قَالَ : " خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَقَالَ : أَلا وَلا يَحِلُّ لامْرِئٍ مُسْلِمٍ مِنْ مَالِ أَخِيهِ شَيْءٌ إِلا بِطَيْبَةِ نَفْسٍ مِنْهُ ، قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنْ لَقِيتُ غَنَمَ ابْنِ عَمِّي ، ذَكَرَ بَاقِي الْحَدِيثِ ، وَقَالَ فِيهِ : إِنْ لَقِيتَهَا نَعْجَةً تَحْمِلُ شَفْرَةً وَأَزْنَادًا بِخَبْتِ الْجَمِيشِ أَرْضٌ بَيْنَ مَكَّةَ ، وَالْجَارِ أَرْضٌ لَيْسَ فِيهَا أُنَيْسٌ " ، وَهَذَا إِلا أَنَّهُ أُسْقِطَ مِنْهُ ابْنُ أَبِي سَعِيدٍ ، وَالأَوَّلُ أَصَحُّ.
محمد محی الدین

سیدنا عمرو بن یثربی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں خطبہ دیتے ہوئے ارشاد فرمایا: ”خبردار! کسی بھی مسلمان کے لیے اس کے بھائی کا مال حلال نہیں ہے، ماسوائے اس چیز کے، جسے وہ خود اپنی پسند سے دے۔“ راوی کہتے ہیں: میں نے عرض کی: ”یا رسول اللہ! اگر مجھے اپنے چچا زاد کی بکریاں ملتی ہیں۔“ (اس کے بعد راوی نے پوری حدیث ذکر کی ہے، جس میں یہ الفاظ ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:) ”اگر تمہیں وہ بکری خبت الحمیش (یہ ایک ویرانہ کا نام ہے) میں ملتی ہے اور اس وقت تم نے چھری اور بکری کو باندھنے کا سامان اٹھایا ہوا ہے، تو بھی تم اسے ہاتھ نہیں لگا سکتے۔“ امام دارقطنی رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: یہ بات بیان کی گئی ہے کہ (خبت الحمیش) مکہ اور اس کے نواح کے درمیان ایک جگہ ہے، یہ ایک ایسی جگہ ہے، جہاں کوئی آبادی نہیں ہے، اس سند میں راوی نے ابن ابی سعید کا تذکرہ نہیں کیا، تاہم پہلی روایت زیادہ مستند ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب البيوع / حدیث: 2884
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 11641، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2883، 2884، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 15728، 21469، وعبد الله بن أحمد بن حنبل فى زوائده على "مسند أحمد"، 21468، والطحاوي فى ((شرح معاني الآثار)) برقم: 6633، والطحاوي فى ((شرح مشكل الآثار)) برقم: 2823»
«قال الزیلعي: وإسناده جيد ، نصب الراية لأحاديث الهداية: (4 / 168)»