سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ مَا رُوِيَ فِي الْحَثِّ عَلَى الْمَضْمَضَةِ وَالِاسْتِنْشَاقِ وَالْبَدَاءَةِ بِهِمَا أَوَّلَ الْوُضُوءِ باب: : کلی کرنے اور ناک میں پانی ڈالنے کی ترغیب ، وضو کا آغاز ان دونوں سے کیا جائے
نا محَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ الْمُقْرِئُ النَّقَّاشُ ، قَالا : نا محَمَّدُ بْنُ حَمِّ بْنِ يُوسُفَ التِّرْمِذِيُّ ، نا إسْمَاعِيلُ بْنُ بِشْرٍ الْبَلْخِيُّ ، نا عصَامُ بْنُ يُوسُفَ ، بِهَذَا الإِسْنَادِ نَحْوَهُ ، إِلا أَنَّهُ قَالَ : مِنَ الْوُضُوءِ الَّذِي لا يَتِمُّ الْوُضُوءُ إِلا بِهِمَا . تَفَرَّدَ بِهِ عِصَامٌ ، عَنِ ابْنِ الْمُبَارَكِ ، وَوَهِمَ فِيهِ وَالصَّوَابُ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ مُوسَى ، مُرْسَلا ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، " مَنْ تَوَضَّأَ فَلْيَتَمَضْمَضْ وَلْيَسْتَنْشِقْ " ، وَأَحْسَبُ عِصَامًا حَدَّثَ بِهِ مِنْ حِفْظِهِ ، فَاخْتَلَطَ عَلَيْهِ فَاشْتَبَهَ بِإِسْنَادِ حَدِيثِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ سُلَيْمَانَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ ، عَنْ عَائِشَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ بِغَيْرِ إِذْنِ وَلِيِّهَا فَنِكَاحُهَا بَاطِلٌ " ، وَاللَّهُ أَعْلَمُ.یہی روایت ایک اور سند کے ہمراہ منقول ہے، تاہم اس میں یہ الفاظ ہیں: ”یہ وضو کا ایک ایسا حصہ ہے، جس کے بغیر وضو مکمل نہیں ہوتا۔“ اس روایت کو نقل کرنے میں عصام نامی راوی منفرد ہیں اور انہیں اس بارے میں وہم ہوا ہے۔ صحیح روایت وہ ہے، جسے ابن جریج نامی راوی نے سلمان بن موسیٰ کے حوالے سے ”مرسل“ حدیث کے طور پر نقل کیا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”جو شخص وضو کرے اسے کلی کرنی چاہیے اور ناک میں پانی ڈالنا چاہیے۔“ امام دارقطنی بیان کرتے ہیں: میرا یہ خیال ہے، عصام نامی راوی نے اس حدیث کو اپنے حافظے کے حوالے سے بیان کیا اور یہ بات ان پر مختلط ہو گئی، اور ان پر اس روایت کی سند مشتبہ ہو گئی جو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے حوالے سے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان کے طور پر منقول ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جس عورت کا نکاح اس کے ولی کی اجازت کے بغیر کیا گیا ہو، تو اس کا نکاح باطل ہو گا۔“