سنن الدارقطني
كتاب الحج— حج کا بیان۔
بَابُ فَرْضِ الْحَجِّ وَكَمْ مَرَّةً حَجَّ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ باب: حج کی فرضیت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنی بار حج کیا؟
ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا أَبُو مُوسَى . ح وَثنا يَزْدَادُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْكَاتِبُ ، نا أَبُو سَعِيدٍ الأَشَجُّ . ح وَثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالُوا : نا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ ، نا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى الثَّعْلَبِيُّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، قَالَ : " لَمَّا نزلت هَذِهِ الآيَةُ : وَلِلَّهِ عَلَى النَّاسِ حِجُّ الْبَيْتِ مَنِ اسْتَطَاعَ إِلَيْهِ سَبِيلا سورة آل عمران آية 97 ، قَالُوا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفِي كُلِّ عَامٍ ، فَسَكَتَ . فَقَالُوا : أَفِي كُلِّ عَامٍ ، قَالَ : لا ، وَلَوْ قُلْتُ : نَعَمْ لَوَجَبَتْ ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ : يَأَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لا تَسْأَلُوا عَنْ أَشْيَاءَ إِنْ تُبْدَ لَكُمْ تَسُؤْكُمْ سورة المائدة آية 101 " ، إِلَى آخِرِ الآيَةِ . وَقَالَ الأَشَجُّ : نا مَنْصُورُ بْنُ وَرْدَانَ أَبُو مُحَمَّدٍ إِمَامُ مَسْجِدِ الْكُوفَةِ ، وَقَالَ الزَّعْفَرَانِيُّ : فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالُوا : " أَفِي كُلِّ عَامٍ ، فَسَكَتَ ، ثُمَّ قَالُوا : أَفِي كُلِّ عَامٍ ، فَقَالَ : لا " ، وَالْبَاقِي مِثْلُهُ.سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی: ”اور لوگوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ کے لیے بیت اللہ کا حج کریں، جو شخص وہاں تک پہنچنے کی سبیل رکھتا ہے۔“ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہر سال حج کرنا فرض ہے؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے خاموشی اختیار کی۔ لوگوں نے کہا: کیا ہر سال فرض ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، اگر میں ہاں کر دیتا، تو یہ لازم ہو جاتا۔“ پھر اللہ نے یہ آیت نازل کی: ”اے ایمان والو! تم ایسی چیزیں دریافت نہ کرو جو اگر تم پر ظاہر کی جائیں، تو تمہیں برا لگے۔“ ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں: لوگوں نے عرض کیا: کیا ہر سال؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ پھر لوگوں نے عرض کی: کیا ہر سال؟ تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس کے بعد حسب سابق حدیث ہے۔