سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ مَا جَاءَ فِي قَوْلِهِ تَعَالَى : { وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ } باب: اللہ تعالٰی کے فرمان «وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ» ”اور جو اس پر قادر ہیں انہیں فدیہ ادا کرنا ہوگا“ کے بارے میں
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا رَوْحٌ ، ثنا شِبْلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 وَاحِدٍ ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا زَادَ طَعَامَ مِسْكِينٍ آخَرَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ، وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ، وَلا يُرَخَّصُ إِلا لِلْكَبِيرِ الَّذِي لا يُطِيقُ الصَّوْمَ ، أَوْ مَرِيضٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ لا يُشْفَى " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جو شخص نفلی طور پر بھلائی کرنا چاہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہو گا۔ اور اگر تم لوگ روزہ رکھ لو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) یہ رخصت صرف اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھے یا اس بیمار کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے کہ اب وہ کبھی شفا یاب نہیں ہو گا۔ اس کی سند صحیح ہے۔