حدیث نمبر: 2379
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَكِيلُ أَبِي صَخْرَةَ ، حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَرَفَةَ ، ثنا رَوْحٌ ، ثنا شِبْلٌ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نَجِيحٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، وَعَطَاءٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، " وَعَلَى الَّذِينَ يُطِيقُونَهُ فِدْيَةٌ طَعَامُ مِسْكِينٍ سورة البقرة آية 184 وَاحِدٍ ، فَمَنْ تَطَوَّعَ خَيْرًا زَادَ طَعَامَ مِسْكِينٍ آخَرَ ، فَهُوَ خَيْرٌ لَهُ ، وَأَنْ تَصُومُوا خَيْرٌ لَكُمْ ، وَلا يُرَخَّصُ إِلا لِلْكَبِيرِ الَّذِي لا يُطِيقُ الصَّوْمَ ، أَوْ مَرِيضٍ يَعْلَمُ أَنَّهُ لا يُشْفَى " . وَهَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں: (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جو لوگ اس کی طاقت نہیں رکھتے، ان کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔“ یعنی ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”جو شخص نفلی طور پر بھلائی کرنا چاہے۔“ اس کا مطلب ہے کہ وہ مزید ایک مسکین کو کھانا کھلا دے۔ (ارشاد باری تعالیٰ ہے) ”تو یہ اس کے لیے زیادہ بہتر ہو گا۔ اور اگر تم لوگ روزہ رکھ لو، یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے۔“ (سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں) یہ رخصت صرف اس بوڑھے آدمی کو دی گئی ہے جو روزہ رکھنے کی طاقت نہ رکھے یا اس بیمار کو دی گئی ہے جو یہ جانتا ہے کہ اب وہ کبھی شفا یاب نہیں ہو گا۔ اس کی سند صحیح ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2379
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحيح
تخریج حدیث «إسناده صحيح ، وأخرجه البخاري فى ((صحيحه)) برقم: 4505، وابن الجارود فى "المنتقى"، 418، والضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 81، 263، 243، والحاكم فى ((مستدركه)) برقم: 1612، 1613، والنسائي فى ((المجتبیٰ)) برقم: 2319 ، وأبو داود فى ((سننه)) برقم: 2316، 2317، 2318، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8173،والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2374، 2377، 2378، 2379، 2380، 2381، 2382، 2384، 2385، 2386، 2387، 4339»
«قال الدارقطني: هذا إسناد صحيح ، سنن الدارقطني: (3 / 193) برقم: (2374)»