حدیث نمبر: 2333
حَدَّثَنَا ابْنُ مَنِيعٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، ثنا يَحْيَى بْنُ سُلَيْمٍ الطَّائِفِيُّ ، عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ الْمُنْكَدِرِ ، قَالَ : بَلَغَنِي أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سُئِلَ عَنْ تَقْطِيعِ قَضَاءِ صِيَامِ شَهْرِ رَمَضَانَ ، فَقَالَ : " ذَلِكَ إِلَيْكَ ، أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ عَلَى أَحَدِكُمْ دَيْنٌ فَقَضَى الدِّرْهَمَ وَالدِّرْهَمَيْنِ ، أَلَمْ يَكُنْ قَضَاءُ ؟ فَاللَّهِ أَحَقَّ أَنْ يَعْفُوَ وَيَغْفِرَ " . إِسْنَادٌ حَسَنٌ إِلا أَنَّهُ مُرْسَلٌ . وَقَدْ وَصَلَهُ غَيْرُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سُلَيْمٍ ، إِلا أَنَّهُ جَعَلَهُ عَنْ مُوسَى بْنِ عُقْبَةَ ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ ، عَنْ جَابِرٍ . وَلا يُثْبَتُ مُتَّصِلا.
محمد محی الدین

محمد بن منکدر بیان کرتے ہیں: مجھے اس بات کا پتا چلا ہے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے رمضان کے روزوں کی قضاء الگ الگ رکھنے کے بارے میں دریافت کیا گیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: ”یہ تمہاری مرضی ہے، تمہارا کیا خیال ہے، اگر کسی شخص کے ذمے قرض ہو اور وہ ایک یا دو درہم ادا کرے، تو کیا یہ ادائیگی نہیں ہو گی، تو اللہ تعالیٰ اس بات کا زیادہ حقدار ہے، معاف کر دے اور بخش دے۔“ اس کی سند حسن ہے، لیکن یہ روایت مرسل ہے۔ ابوبکر کے علاوہ دیگر راویوں نے اسے موصول روایت کے طور پر نقل کیا ہے، البتہ انہوں نے اسے موسیٰ بن عقبہ کے حوالے سے، ابوزبیر کے حوالے سے سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے نقل کیا ہے اور یہ روایت بھی متصل طور پر ثابت نہیں ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2333
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن مرسل
تخریج حدیث «إسناده حسن مرسل ، وأخرجه البيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 8341، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 2333، وابن أبى شيبة فى ((مصنفه)) برقم: 9206»
«قال الدارقطني: إسناد حسن إلا أنه مرسل وقد وصله غير أبي بكر عن يحيى بن سليم ولا يثبت ، متصلا ، سنن الدارقطني: (3 / 174) برقم: (2333)»