حدیث نمبر: 2296
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ يَحْيَى ، ثنا أَبُو النُّعْمَانِ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، عَنِ الصَّقْعَبِ بْنِ زُهَيْرٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ الأَسْوَدِ ، قَالَ : كَانَ أَبِي يَبْعَثُ بِي إِلَى عَائِشَةَ فَأَسْأَلُهَا ، فَلَمَّا كَانَ عَامُ احْتَلَمْتُ جِئْتُ إِلَيْهَا فَدَخَلْتُ ، فَقَالَتْ : " أَيْ لَكَاعِ فَعَلْتَهَا " ، وَأَلْقَتْ بَيْنِي وَبَيْنَهَا الْحِجَابَ .
محمد محی الدین

عبدالرحمن بن اسود بیان کرتے ہیں: میرے والد مجھے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی خدمت میں بھیجا کرتے تھے، میں ان سے سوال کرتا تھا، جب وہ سال آیا، جس میں مجھے احتلام ہوا، میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا، میں اندر آنے لگا، تو انہوں نے فرمایا: او نا لایق! تم نے یہ حرکت کی ہے؟ پھر انہوں نے میرے اور اپنے درمیان پردہ گرا دیا۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني /  كتاب الصيام / حدیث: 2296
تخریج حدیث «((أخرجه الدارقطني فى سننه برقم: 2296))»