حَدَّثَنَا الْقَاسِمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ أَبُو عُبَيْدٍ ، ثنا الْقَاسِمُ بْنُ هَاشِمٍ السِّمْسَارُ ، ثنا عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ الْحِمْصِيُّ ، ثنا الأَوْزَاعِيُّ ، ثنا عُبَادَةُ بْنُ نَسِيٍّ ، وَهُبَيْرَةُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالا : نا أَبُو أَسْمَاءَ الرَّحَبِيُّ ، ثنا ثَوْبَانُ ، قَالَ : كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَائِمًا رَمَضَانَ ، فَأَصَابَهُ غَمٌّ آذَاهُ فَتَقَيَّأَ فَقَاءَ ، فَدَعَا بِوَضُوءٍ ، فَتَوَضَّأَ ثُمَّ أَفْطَرَ ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَفَرِيضَةٌ الْوُضُوءُ مِنَ الْقَيْءِ ؟ قَالَ : " لَوْ كَانَ فَرِيضَةً لَوَجَدْتَهُ فِي الْقُرْآنِ " ، قَالَ : صَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْغَدَ فَسَمِعْتُهُ ، يَقُولُ : " هَذَا مَكَانُ إِفْطَارِي أَمْسِ " . عُتْبَةُ بْنُ السَّكَنِ ، مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ.سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روزہ رکھا ہوا تھا، یہ رمضان کے روزوں کی بات نہیں ہے، آپ کو کوئی پریشانی لاحق ہوئی، جو آپ کے لیے تکلیف دہ ہوئی، تو آپ کو قے آ گئی، پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، آپ نے وضو کیا اور روزہ توڑ دیا۔ میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا قے کرنے کے بعد وضو کرنا فرض ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اگر یہ فرض ہوتا، تو تم اسے قرآن میں پا لیتے۔“ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اگلے دن روزہ رکھا، تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”یہ میرے گزشتہ دن کا روزے توڑنے کے بدلے میں ہے۔“ اس روایت کا راوی عتبہ بن سکن متروک الحدیث ہے۔