سنن الدارقطني
كتاب الصيام— روزوں کا بیان
بَابُ الشَّهَادَةِ عَلَى رُؤْيَةِ الْهِلَالِ باب: چاند دیکھنے کی گواہی
حدیث نمبر: 2199
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا حَاجِبُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، ثنا مُؤَمَّلُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنِي مَنْصُورٌ ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ ، قَالَ : " جَاءَنَا كِتَابُ عُمَرَ وَنَحْنُ بِخَانِقِينَ : إِنَّ الأَهِلَّةَ بَعْضُهَا أَعْظَمُ مِنْ بَعْضٍ ، فَإِذَا رَأَيْتُمُ الْهِلالَ لأَوَّلِ النَّهَارِ فَلا تُفْطِرُوا حَتَّى يَشْهَدَ رَجُلانِ ذَوَا عَدْلٍ أَنَّهُمَا أَهَلاهُ بِالأَمْسِ عَشِيَّةً " . قَالَ لَنَا أَبُو بَكْرٍ : إِنْ كَانَ مُؤَمَّلٌ حَفِظَهُ فَهُوَ غَرِيبٌ ، وَخَالَفَهُ الإِمَامُ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ.محمد محی الدین
ابووائل بیان کرتے ہیں: ہمارے پاس سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا خط آیا، تو ہم اس وقت خانقین کے مقام پر موجود تھے (اس میں یہ تحریر تھا): ”پہلی کا چاند بعض اوقات چھوٹا بڑا ہوتا ہے، تو جب تم دن کے ابتدائی حصے میں چاند دیکھ لو، تو اس وقت تک عید نہ کرو، جب تک دو عادل آدمی اس بات کی گواہی نہ دے دیں کہ وہ گزشتہ رات چاند دیکھ چکے ہیں۔“ ابوبکر نے یہ بات بیان کی ہے: اگر مومل نامی راوی کو یہ روایت غریب ہے، کیونکہ امام عبدالرحمن مہدی نے اس سے مختلف روایت نقل کی ہے۔