حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ الْحُسَيْنِ بْنِ يُوسُفَ الْمَرْوَذِيُّ ، وَعُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ الدَّقَّاقُ ، قَالا : ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُنَادِي ، ثنا أَبُو بَدْرٍ شُجَاعُ بْنُ الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ الَّذِي كَانَ يَسْكُنُ الْجَزِيرَةَ وَهُوَ سَابِقٌ ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ ، أَنَّهُ قَالَ : " كُنَّا نُخْرِجُ زَكَاةَ الْفِطْرِ يَوْمَ الْفِطْرِ صَاعَ طَعَامٍ أَوْ صَاعَ تَمْرٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ شَعِيرٍ أَوْ صَاعًا مِنْ زَبِيبٍ ، أَوْ صَاعًا مِنْ أَقِطٍ ، فَلَمْ نزل نُخْرِجُهُ حَتَّى قَدِمَ عَلَيْنَا مُعَاوِيَةُ مِنَ الشَّامِ حَاجًّا أَوْ مُعْتَمِرًا وَهُوَ يَوْمَئِذٍ خَلِيفَةٌ ، فَخَطَبَ النَّاسَ عَلَى مِنْبَرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، فَذَكَرَ زَكَاةَ الْفِطْرِ وَقَالَ : إِنِّي لأَرَى مُدَّيْنِ مِنْ سَمْرَاءِ الشَّامِ تَعْدِلُ صَاعًا مِنْ تَمْرٍ ، وَكَانَ ذَلِكَ أَوَّلَ مَا ذَكَرَ النَّاسُ الْمُدَّيْنِ " .سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ہم عید الفطر کے دن صدقہ فطر ادا کیا کرتے تھے، جو اناج کا ایک صاع ہوتا تھا یا کھجور کا ایک صاع ہوتا تھا یا جو کا ایک صاع ہوتا تھا یا کشمش کا ایک صاع ہوتا تھا یا نپیر کا ایک صاع ہوتا تھا، ہم اسی طرح ادائیگی کرتے رہے، یہاں تک کہ سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ حج یا عمرہ کرنے کے لیے شام سے ہمارے پاس تشریف لائے، وہ اس وقت خلیفہ وقت تھے، انہوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے منبر پر لوگوں کو خطبہ دیا، انہوں نے صدقہ فطر کا ذکر کرتے ہوئے یہ بات بیان کی: ”میں یہ سمجھتا ہوں کہ شام کی گندم کے دو مد کھجور کے ایک صاع کے برابر ہوتے ہیں۔“ سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: اس وقت لوگوں نے سب سے پہلے دو مد کا ذکر کیا۔