سنن الدارقطني
كتاب زكاة— زکوۃ کا بیان
بَابُ اسْتِقْرَاضِ الْوَصِيِّ مِنْ مَالِ الْيَتِيمِ باب: یتیم کے مال میں سے وصی کا قرض کے طورپر کچھ لینا
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْحَسَنِ الْقُرَيْسِينِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ حُمَيْدٍ ، ثنا مَسْلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ ، ثنا مُنِيرُ بْنُ الْعَلاءِ ، عَنِ الأَشْعَثِ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ ، عَنْ مُجَاهِدِ بْنِ وَرْدَانَ ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ ، " أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَعْطَى أَبَا رَافِعٍ مَوْلاهُ أَرْضًا ، فَعَجَزَ عَنْهَا فَمَاتَ ، فَبَاعَهَا عُمَرُ بِمِائَتَيْ أَلْفٍ وَثَمَانِيَةِ آلافِ دِينَارٍ ، وَأَوْصَى إِلَى عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ، فَكَانَ يُزَكِّيهَا كُلَّ سَنَةٍ حَتَّى أَدْرَكَ بَنُوهُ ، فَدَفَعَهُ إِلَيْهِمْ فَحَسَبُوهُ ، فَوَجَدُوهُ نَاقِصًا فَأَتَوْهُ ، فَقَالُوا : إِنَّا وَجَدْنَا مَالَنَا نَاقِصًا ، فَقَالَ : أَحَسَبْتُمْ زَكَاتَهُ ؟ فَقَالُوا : لا ، قَالَ : احْسِبُوا زَكَاتَهُ ، فَحَسَبُوهُ فَوَجَدُوهُ سَوَاءً " .مجاہد، سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہ بات نقل کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے غلام سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کو کچھ زمین عطا کی، وہ اس کا خیال نہیں رکھ سکے، ان کا انتقال ہو گیا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اس زمین کو لاکھ اسی ہزار دینار کے عوض میں فروخت کر دیا، انہوں نے سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ کو اس رقم کا نگران مقرر کیا، علی رضی اللہ عنہ ہر سال اس کی زکوٰۃ ادا کرتے رہے، یہاں تک کہ جب سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ کے بچے بڑے ہو گئے، تو انہیں وہ مال کم لگا، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے دریافت کیا: ”کیا تم لوگوں نے زکوٰۃ کا حساب لگایا ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: ”ہاں!“ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”اس کی زکوٰۃ کا حساب لگاؤ۔“ جب انہوں نے اس کا حساب لگایا، تو اسے پورا پایا۔