سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
فِي الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْوِتْرِ باب: وتر کے بعد دو رکعت ادا کرنا
حدیث نمبر: 1683
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْفَارِسِيُّ ، نا أَبُو زُرْعَةَ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ صَالِحٍ ، ثنا مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ عُبَيْدٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ جُبَيْرِ بْنِ نُفَيْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ ثَوْبَانَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ ، فَقَالَ : " إِنَّ السَّفَرَ جَهْدٌ وَثِقَلٌ ، فَإِذَا أَوْتَرَ أَحَدُكُمْ فَلْيَرْكَعْ رَكْعَتَيْنِ ، فَإِنِ اسْتَيْقَظَ وَإِلا كَانَتَا لَهُ " .محمد محی الدین
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آزاد کردہ غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ ایک سفر میں شریک تھے، آپ نے فرمایا: ”سفر پریشانی اور تھکن کا باعث ہوتا ہے، تو جب کوئی شخص وتر ادا کر لے، تو اس کے بعد دو رکعت ادا کر لے، اگر وہ بیدار ہو گیا، تو ٹھیک ہے، ورنہ اس کے لیے یہ دو رکعت کافی ہوں گی۔“