حدیث نمبر: 165
نا الْعَبَّاسُ بْنُ الْعَبَّاسِ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، نا عَمِّي ، نا هِشَامُ بْنُ بَهْرَامَ ، نا يَحْيَى بْنُ مَطَرٍ ، نا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ ، عَنْ عِرَاكِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ : " سَمِعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْمٍ يَكْرَهُونَ أَنْ يَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ فَحَوَّلَ مَقْعَدَتَهُ إِلَى الْقِبْلَةِ " . هَذَا الْقَوْلُ أَصَحُّ ، هَكَذَا رَوَاهُ أَبُو عَوَانَةَ وَالْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ويَحْيَى بْنُ مَطَرٍ عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ عَنْ عِرَاكٍ . وَرَوَاهُ عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ ، وَحَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ أَبِي الصَّلْتِ ، عَنْ عِرَاكٍ ، وَتَابَعَهُمَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ ، إِلا إِنَّهُ قَالَ : عَنْ رَجُلٍ.
محمد محی الدین

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کچھ لوگوں کے بارے میں یہ بات سنی کہ وہ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ کریں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان کے پاخانے کے لیے بیٹھنے کی جگہ کو قبلہ کے رخ کی طرف پھیر دیا گیا۔ یہ روایت زیادہ مستند ہے۔ اس روایت کو بعض دیگر راویوں نے بھی نقل کیا ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 165
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»