سنن الدارقطني
كتاب الوتر— وتر کا بیان
الْوِتْرُ بِخَمْسٍ أَوْ بِثَلَاثٍ أَوْ بِوَاحِدَةٍ أَوْ بِأَكْثَرَ مِنْ خَمْسٍ باب: : وترپانچ ہوتے ہیں ‘ وترتین ہوتے ہیں ‘ وترایک ہوتا ہے یاوترپانچ سے زیادہ ہوتے ہیں
حدیث نمبر: 1640
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْوَرَّاقُ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حَسَّانَ الأَزْرَقُ ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، قَالَ : " الْوِتْرُ حَقٌّ وَاجِبٌ فَمَنْ شَاءَ أَوْتَرَ بِثَلاثٍ فَلْيُوتِرْ ، وَمَنْ شَاءَ أَنْ يُوتِرَ بِوَاحِدَةٍ فَلْيُوتِرْ بِوَاحِدَةٍ " . قَوْلُهُ : " وَاجِبٌ " ، لَيْسَ بِمَحْفُوظٍ ، لا أَعْلَمُ تَابَعَ ابْنَ حَسَّانَ عَلَيْهِ أَحَدٌ.محمد محی الدین
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”وتر حق ہے اور واجب ہے، جو شخص تین وتر ادا کرنا چاہے، وہ تین ادا کر لے، جو شخص ایک ادا کرنا چاہے، تو وہ ایک رکعت وتر ادا کر لے۔“ امام دارقطنی رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: اس روایت کا لفظ ’واجب‘ محفوظ نہیں ہے اور مجھے ایسے کسی شخص کا علم نہیں ہے، جس نے اس حوالے سے ابن حسان کی مطابعت کی ہو۔