سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ اسْتِقْبَالِ الْقِبْلَةِ فِي الْخَلَاءِ باب: : بیت الخلاء میں قبلہ کی طرف رخ کرنا
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْجَمَّالُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : كَانُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ : مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ مُذْ كُنْتُ رَجُلا . وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَهُ ، فَقَالَ عِرَاكٌ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَهُ فَأَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَحُوِّلَتْ إِلَى الْقِبْلَةِ " ، وَهَذَا مِثْلُهُ . تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ خَالِدٍ.خالد جزء بیان کرتے ہیں: وہ لوگ عمر بن عبدالعزیز کے پاس موجود تھے، انہوں نے یہ فرمایا: ”میں جب سے جوان ہوا ہوں، میں نے کبھی بھی قبلہ کی طرف رخ کر کے پاخانہ نہیں کیا۔“ عراک بن مالک ان کے پاس موجود تھے، عراک نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا کہ کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیت الخلا کے بارے میں یہ حکم دیا، تو اس بیت الخلا کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا گیا۔ اسی کی مانند ایک اور روایت منقول ہے۔