حدیث نمبر: 164
نا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَعِيدٍ الْجَمَّالُ ، نا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، نا حَجَّاجُ بْنُ نُصَيْرٍ ، نا الْقَاسِمُ بْنُ مُطَيَّبٍ ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، قَالَ : كَانُوا عِنْدَ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الْعَزِيزِ ، فَقَالَ : مَا اسْتَقْبَلْتُ الْقِبْلَةَ بِغَائِطٍ مُذْ كُنْتُ رَجُلا . وَعِرَاكُ بْنُ مَالِكٍ عِنْدَهُ ، فَقَالَ عِرَاكٌ : قَالَتْ عَائِشَةُ : " بَلَغَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ قَوْمًا يَكْرَهُونَهُ فَأَمَرَ بِمَقْعَدَتِهِ فَحُوِّلَتْ إِلَى الْقِبْلَةِ " ، وَهَذَا مِثْلُهُ . تَابَعَهُ يَحْيَى بْنُ مَطَرٍ ، عَنْ خَالِدٍ.
محمد محی الدین

خالد جزء بیان کرتے ہیں: وہ لوگ عمر بن عبدالعزیز کے پاس موجود تھے، انہوں نے یہ فرمایا: ”میں جب سے جوان ہوا ہوں، میں نے کبھی بھی قبلہ کی طرف رخ کر کے پاخانہ نہیں کیا۔“ عراک بن مالک ان کے پاس موجود تھے، عراک نے کہا: سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے یہ بات بیان کی ہے: ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کا پتہ چلا کہ کچھ لوگ اس بات کو ناپسند کرتے ہیں، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے بیت الخلا کے بارے میں یہ حکم دیا، تو اس بیت الخلا کا رخ قبلہ کی طرف کر دیا گیا۔ اسی کی مانند ایک اور روایت منقول ہے۔

حوالہ حدیث سنن الدارقطني / كتاب الطهارة / حدیث: 164
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعيف
تخریج حدیث «إسناده ضعيف ، وأخرجه ابن ماجه فى ((سننه)) برقم: 324، والبيهقي فى((سننه الكبير)) برقم: 445، والدارقطني فى ((سننه)) برقم: 163، 164، 165، 166، 167، 168، وأحمد فى ((مسنده)) برقم: 25703»
«قال البخاري: خالد بن أبى الصلت عن عراك مرسل تحفة الأحوذي شرح سنن الترمذي:17/1»