سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ جَوَازِ النَّافِلَةِ عِنْدَ الْبَيْتِ فِي جَمِيعِ الْأَزْمَانِ باب: : بیت اللہ کے پاس کسی بھی وقت میں نفل نماز ادا کی جاسکتی ہے
حَدَّثَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ يَحْيَى بْنِ عَيَّاشِ بْنِ الْحُرِّ بْنِ عَيَّاشٍ الْقَطَّانُ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، قَالَ : قَالَ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُؤَمَّلِ ، عَنْ حُمَيْدٍ مَوْلَى عَفْرَاءَ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدٍ ، عَنْ مُجَاهِدٍ ، قَالَ : قَدِمَ أَبُو ذَرٍّ مَكَّةَ فَأَخَذَ بِعِضَادَتَيِ الْبَابِ ، فَقَالَ : مَنْ عَرَفَنِي فَقَدْ عَرَفَنِي ، وَمَنْ لَمْ يَعْرِفْنِي فَأَنَا جُنْدُبٌ أَبُو ذَرٍّ ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، يَقُولُ : " لا صَلاةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ ، وَلا بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ الشَّمْسُ ، إِلا بِمَكَّةَ ، إِلا بِمَكَّةَ ، إِلا بِمَكَّةَ " .مجاہد بیان کرتے ہیں: سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ مکہ مکرمہ تشریف لائے، تو انہوں نے خانہ کعبہ کے دروازے کی چوکھٹ کو پکڑ کر فرمایا: ”جو شخص مجھے جانتا ہے، وہ تو مجھ سے واقف ہے، لیکن جو مجھے نہیں جانتا (تو وہ جان لے)، میں جندب (ہوں اور میری کنیت) ابوذر ہے،“ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”فجر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج نکلنے تک کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی جا سکتی اور عصر کی نماز کے بعد سے لے کر سورج غروب ہونے تک کوئی (نفل) نماز ادا نہیں کی جا سکتی، البتہ مکہ کا حکم مختلف ہے، البتہ مکہ کا حکم مختلف ہے، البتہ مکہ کا حکم مختلف ہے۔“