سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ ذِكْرِ نِيَابِةِ الْإِمَامِ عَنْ قِرَاءَةِ الْمَأْمُومِينَ باب: : امام کی قرات کرنا مقتدیوں کی جگہ کافی ہوتا ہے
حدیث نمبر: 1505
حَدَّثَنَا أَبُو حَامِدٍ مُحَمَّدُ بْنُ هَارُونَ ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي الْمُجَالِدِ ، ثنا حَمَّادُ بْنُ خَالِدٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ أَبِي الزَّاهِرِيَّةِ ، عَنْ كَثِيرِ بْنِ مُرَّةَ ، قَالَ : سَمِعْتُ أَبَا الدَّرْدَاءِ ، يَقُولُ : " سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، أَفِي كُلِّ صَلاةٍ قِرَاءَةٌ ؟ قَالَ : نَعَمْ " . فَقَالَ رَجُلٌ مِنَ الأَنْصَارِ : وَجَبَتْ ، فَالْتَفَتَ إِلَيَّ أَبُو الدَّرْدَاءِ ، وَكُنْتُ أَقْرَبَ الْقَوْمِ مِنْهُ ، فَقَالَ : يَا كَثِيرُ ، مَا أَرَى الإِمَامَ إِذَا أَمَّ الْقَوْمَ إِلا وَقَدْ كَفَاهُمْ.محمد محی الدین
سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا: کیا ہر نماز میں قراءت کی جائے گی؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں۔“ انصار سے تعلق رکھنے والے ایک شخص نے کہا: یہ واجب ہو گئی ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا ابودرداء نے میری طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیونکہ میں حاضرین میں ان کے سب سے زیادہ قریب بیٹھا ہوا تھا، انہوں نے فرمایا: ”اے کثیر! میں یہ سمجھتا ہوں کہ جب کوئی شخص لوگوں کو نماز پڑھا رہا ہو، تو اس کا قراءت کرنا ان لوگوں کے لیے کافی ہوتا ہے۔“