نا الْحُسَيْنُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ ، نا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ . ح وَنا عَلِيُّ بْنُ مُبَشِّرٍ ، نا أَحْمَدُ بْنُ سِنَانٍ ، قَالا : أنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ مَنْصُورٍ ، وَالأَعْمَشِ ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ سَلْمَانَ ، قَالَ : قَالَ الْمُشْرِكُونَ : إِنَّا نَرَى صَاحِبَكُمْ يُعَلِّمُكُمْ حَتَّى يُعَلِّمَكُمُ الْخِرَاءَةَ ، قَالَ : أَجَلْ إِنَّهُ لَيَنْهَانَا أَنْ يَسْتَنْجِيَ أَحَدُنَا بِيَمِينِهِ أَوْ نَسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةَ وَيَنْهَانَا عَنِ الرَّوْثِ وَالْعِظَامِ ، وَقَالَ : " لا يَسْتَنْجِي أَحَدُكُمْ بِدُونِ ثَلاثَةِ أَحْجَارٍ " . إِسْنَادٌ صَحِيحٌ.سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے: کچھ مشرکین نے ان سے یہ کہا: ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے، آپ کے آقا نے آپ کو ہر طرح کی بات کی تعلیم دی ہے، یہاں تک کہ آپ کو استنجا کرنے کے طریقے کی بھی تعلیم دی ہے، تو سیدنا سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ”جی ہاں! نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے، ہم میں سے کوئی شخص اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے استنجا کرے یا قبلہ کی طرف رخ کر کے استنجا کرے، اور آپ نے ہمیں مینگنی اور ہڈی سے استنجا کرنے سے بھی منع کیا ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: ”کوئی شخص تین پتھروں سے کم (پتھروں کے ذریعے) استنجا نہ کرے۔“ اس حدیث کی سند ”صحیح“ ہے۔