سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ الْجَمْعِ بَيْنَ الصَّلَاتَيْنِ فِي السَّفَرِ باب: : سفر کے دوران دو نمازیں ایک ساتھ ادا کرنا
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ يَحْيَى الْجُرْجَانِيُّ ، ثنا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَعَنْ كُرَيْبٍ مَوْلَى ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ ، قَالَ : أَلا أُخْبِرُكُمْ عَنْ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي السَّفَرِ ؟ قُلْنَا : بَلَى ، قَالَ : " كَانَ إِذَا زَاغَتْ لَهُ الشَّمْسُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ قَبْلَ أَنْ يَرْكَبَ ، وَإِذَا لَمْ تَزِغْ لَهُ فِي مَنْزِلِهِ سَارَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعَصْرُ نزل ، فَجَمَعَ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ ، وَإِذَا حَانَتْ لَهُ الْمَغْرِبُ فِي مَنْزِلِهِ جَمَعَ بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْعِشَاءِ ، وَإِذَا لَمْ تَحِنْ فِي مَنْزِلِهِ رَكِبَ حَتَّى إِذَا حَانَتِ الْعِشَاءُ نزل ، فَجَمَعَ بَيْنَهُمَا " . قَالَ الشَّيْخُ : رَوَى هَذَا الْحَدِيثَ حَجَّاجٌ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ : أَخْبَرَنِي حُسَيْنٌ ، عَنْ كُرَيْبٍ وَحْدَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ . وَرَوَاهُ عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَرَوَاهُ عَبْدُ الْمَجِيدِ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، عَنْ كُرَيْبِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ ، وَكُلُّهُمْ ثِقَاتٌ ، فَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ ابْنُ جُرَيْجٍ سَمِعَهُ أَوَّلا مِنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، عَنْ حُسَيْنٍ ، كَقَوْلِ عَبْدِ الْمَجِيدِ عَنْهُ ، ثُمَّ لَقِيَ ابْنُ جُرَيْجٍ حُسَيْنًا فَسَمِعَهُ مِنْهُ كَقَوْلِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ ، وَحَجَّاجٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، حَدَّثَنِي حُسَيْنٌ ، وَاحْتَمَلَ أَنْ يَكُونَ حُسَيْنٌ سَمِعَهُ مِنْ عِكْرِمَةَ ، وَمِنْ كُرَيْبٍ جَمِيعًا ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَكَانَ يُحَدِّثُ بِهِ مَرَّةً عَنْهُمَا جَمِيعًا كَرِوَايَةِ عَبْدِ الرَّزَّاقِ عَنْهُ ، وَمَرَّةً عَنْ كُرَيْبٍ وَحْدَهُ كَقَوْلِ حَجَّاجٍ ، وَابْنِ أَبِي رَوَّادٍ ، وَمَرَّةً عَنْ عِكْرِمَةَ وَحْدَهُ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسِ كَقَوْلِ عُثْمَانَ بْنِ عُمَرَ ، وَتَصِحُّ الأَقَاوِيلُ كُلُّهَا . وَاللَّهُ أَعْلَمُ.کریب بیان کرتے ہیں: ایک مرتبہ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: کیا میں آپ لوگوں کو سفر کے دوران نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے نماز کے طریقے کے بارے میں بتاؤں؟ ہم نے جواب دیا: جی ہاں! تو انہوں نے بتایا: جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی رہائش گاہ میں موجود ہوتے تھے اور اس دوران سورج ڈھل جاتا تھا (یعنی دوپہر کا وقت ہو جاتا تھا)، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سفر روانہ ہونے سے پہلے ہی ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی (گھر میں) موجودگی کے وقت سورج نہیں ڈھلا ہوتا تھا (یعنی دوپہر نہیں ہوئی ہوتی تھی) اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ ہونا ہوتا تھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو جاتے تھے، پھر جب عصر کا وقت ہو جاتا تھا، تو اس وقت آپ سفر روک کر ظہر اور عصر کی نماز ایک ساتھ ادا کیا کرتے تھے، اسی طرح اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی رہائش گاہ میں مغرب کا وقت ہو جاتا، تو آپ مغرب اور عشاء کی نماز ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے اور اگر مغرب کا وقت نہ ہوا ہوتا، تو آپ روانہ ہو جاتے اور عشاء کی نماز کے وقت میں ان دونوں نمازوں کو ایک ساتھ ادا کر لیتے تھے۔ سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے حوالے سے یہی روایت بعض دیگر اسناد کے ہمراہ بھی منقول ہے۔