سنن الدارقطني
كتاب الطهارة— پاکی کا بیان
بَابُ اسْتِعْمَالِ الرَّجُلِ فَضْلَ وُضُوءِ الْمَرْأَةِ باب: : مرد کا عورت کے وضو کے بچے ہوئے پانی کو استعمال کرنا
نا علِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْهَيْثَمِ الْبَزَّازُ ، نا عِيسَى بْنُ أَبِي حَرْبٍ الصَّفَّارُ ، نا يَحْيَى بْنُ أَبِي بُكَيْرٍ ، عَنْ شَرِيكٍ ، عَنْ سِمَاكٍ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، عَنْ مَيْمُونَةَ ، قَالَتْ : أَجْنَبْتُ فَاغْتَسَلْتُ مِنْ جَفْنَةٍ فَفَضَلَتْ فِيهَا فَضْلَةٌ ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْتَسِلُ مِنْهُ ، فَقُلْتُ : إِنِّي قَدِ اغْتَسَلَتْ مِنْهُ ، فَقَالَ : " الْمَاءُ لَيْسَ عَلَيْهِ جَنَابَةٌ " ، فَاغْتَسَلَ مِنْهُ ، اخْتُلِفَ فِي هَذَا الْحَدِيثِ عَلَى سِمَاكٍ ، وَلَمْ يَقُلْ فِيهِ : عَنْ مَيْمُونَةَ غَيْرَ شَرِيكٍ.سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں، وہ فرماتی ہیں: مجھے جنابت لاحق ہو گئی، میں نے ایک برتن سے غسل کر لیا اور اس میں کچھ پانی بچ گیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، آپ اس سے غسل کرنے لگے تو میں نے عرض کی: میں نے اس برتن سے غسل کیا ہے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس پانی کو جنابت لاحق نہیں ہوئی ہے۔“ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس برتن سے غسل کر لیا۔ اس روایت میں سماط نامی راوی سے اختلاف کیا گیا ہے اور اس میں صرف شریک نامی راوی نے یہ بات بیان کی ہے: یہ سیدہ میمونہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے۔