سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ صِفَةِ التَّشَهُّدِ وَوُجُوبِهِ وَاخْتِلَافِ الرِّوَايَاتِ فِيهِ باب: : تشہد کا طریقہ، اس کا واجب ہونا، اس بارے میں روایات کا اختلاف
ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سُلَيْمَانَ بْنِ الأَشْعَثِ ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ وَزِيرٍ الدِّمَشْقِيُّ ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، أَخْبَرَنِي ابْنُ لَهِيعَةَ ، أَخْبَرَنِي جَعْفَرُ بْنُ رَبِيعَةَ ، عَنْ يَعْقُوبَ بْنِ الأَشَجِّ ، أَنَّ عَوْنَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ كَتَبَ لِي فِي التَّشَهُّدِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، وَأَخَذَ بِيَدِي فَزَعَمَ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَ بِيَدِهِ ، فَزَعَمَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَخَذَ بِيَدِهِ فَعَلَّمَهُ التَّشَهُّدَ : " التَّحِيَّاتُ لِلَّهِ وَالصَّلَوَاتُ الطَّيِّبَاتُ الْمُبَارَكَاتُ لِلَّهِ " . هَذَا إِسْنَادٌ حَسَنٌ ، وَابْنُ لَهِيعَةَ لَيْسَ بِالْقَوِيِّ.یعقوب بن اشجع نامی راوی بیان کرتے ہیں: عون بن عبداللہ نے سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول تشہد کے کلمات مجھے لکھ کر دیے، پھر انہوں نے میرا ہاتھ تھاما اور بتایا: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بار ان کا ہاتھ تھام کر یہ بتایا تھا، ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کا ہاتھ تھام کر انہیں تشہد کے کلمات کی تعلیم دی تھی (وہ کلمات یہ ہیں): ”التحیات للہ الصلوۃ الطیبات المبارکات للہ، تمام قولی اور جسمانی عبادتیں اللہ کے لیے مخصوص ہیں۔“ اس روایت کی سند حسن ہے اور اس کا راوی ابن لہیعہ مستند نہیں ہے۔