سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
مَا يَقُولُ إِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ . باب: : رکوع سے سر اٹھاتے وقت کیا پڑھاجائے گا ؟
حدیث نمبر: 1290
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ النَّيْسَابُورِيُّ ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مَنْصُورٍ زَاجٌ ، ثنا النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنْ أَبِي الأَحْوَصِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِقَوْمٍ كَانُوا يَقْرَءُونَ الْقُرْآنَ فَيَجْهَرُونَ بِهِ : " خَلَطْتُمْ عَلَيَّ الْقُرْآنَ " ، وَكُنَّا نُسَلِّمُ فِي الصَّلاةِ ، فَقِيلَ لَنَا : " إِنَّ فِي الصَّلاةِ شُغْلا " .محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حاضرین سے فرمایا جو (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں) بلند آواز میں قراءت کر رہے تھے: ”تم نے میرے لیے تلاوت کرنا مشکل کر دیا۔“ (سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں:) پہلے ہم نماز میں سلام کا جواب دے دیا کرتے تھے، پھر ہمیں یہ بتایا گیا: ”نماز ایک مشغولیت ہے (اس لیے نماز کے درمیان کوئی بات چیت یا کلام نہ کیا جائے)۔“