سنن الدارقطني
كتاب الصلاة— نماز کا بیان
بَابُ التَّأْمِينِ فِي الصَّلَاةِ بَعْدَ فَاتِحَةِ الْكِتَابِ وَالْجَهْرِ بِهَا باب: : نماز کے دوران سورة فاتحہ کے بعد آمین کہنا : اسے بلند آواز سے کہنا
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ صَاعِدٍ ، ثنا أَبُو الأَشْعَثِ ، ثنا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، ثنا شُعْبَةُ ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ ، عَنْ حُجْرِ أَبِي الْعَنْبَسِ ، عَنْ عَلْقَمَةَ ، ثنا وَائِلٌ ، أَوْ عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ : صَلَّيْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ حِينَ قَالَ : غَيْرِ الْمَغْضُوبِ عَلَيْهِمْ وَلا الضَّالِّينَ سورة الفاتحة آية 7 ، قَالَ : " آمِينَ " ، وَأَخْفَى بِهَا صَوْتَهُ ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى ، وَسَلَّمَ عَنْ يَمِينِهِ وَعَنْ شِمَالِهِ . كَذَا قَالَ شُعْبَةُ : وَأَخْفَى بِهَا صَوْتَهُ ، وَيُقَالُ : إِنَّهُ وَهِمَ فِيهِ لأَنَّ سُفْيَانَ الثَّوْرِيَّ ، وَمُحَمَّدَ بْنَ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ وَغَيْرَهُمَا ، رَوَوْهُ عَنْ سَلَمَةَ ، فَقَالُوا : وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِآمِينَ ، وَهُوَ الصَّوَابُ.سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا کی۔ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا، جب آپ نے ”غیر المغضوب علیھم ولا الضالین“ پڑھا، تو آپ نے آمین کہا۔ آپ نے اس کی آواز کو پست رکھا۔ نماز کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا دایاں دست مبارک بائیں ہاتھ پر رکھا تھا اور آپ نے دائیں طرف اور بائیں طرف سلام پھیرا۔ شعبہ رحمہ اللہ نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پست آواز میں آمین کہی تھی۔ ایک قول کے مطابق اس روایت میں انہیں وہم ہوا ہے، کیونکہ دیگر راویوں نے اسے سلمہ رحمہ اللہ نامی راوی کے حوالے سے نقل کیا ہے اور یہی بات نقل کی ہے: نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بلند آواز میں آمین کہی تھی اور یہی روایت درست ہے۔